
امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ اپنے پانچویں مہینے میں داخل ہو چکی ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے اس بحران سے نکلنے کے راستے مزید دشوار ہوتے جا رہے ہیں۔ مسلسل تیرہ دن کی شدید بمباری کے بعد امریکی انتظامیہ نے فضائی حملوں میں وقفہ کیا ہے تاکہ سفارتی کوششوں کو موقع دیا جا سکے، تاہم ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا ہے کہ امریکی افواج کسی بھی ممکنہ تصادم کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
دوسری جانب عمان کی ثالثی میں سفارتی رابطوں کی خبریں تو سامنے آئی ہیں لیکن تہران اپنے اس بنیادی مطالبے پر قائم ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا کنٹرول اس کے پاس رہے، جو کہ اس حالیہ تنازع کی بنیادی وجہ بنا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کی ویب سائٹ پر شائع ایک تجزیاتی رپورٹ کے مطابق، جنگ کے طویل ہونے کی وجہ سے امریکی انتظامیہ پر اندرونی اور عالمی سطح پر سیاسی اور معاشی دباؤ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور پیٹرول کی ممکنہ مہنگائی نے امریکی عوام میں تشویش پیدا کر دی ہے، جو پہلے ہی اس جنگ کی مخالفت کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، اس صورتحال میں ٹرمپ انتظامیہ کے پاس حملے تیز کرنے، بحری ناکہ بندی بڑھانے یا دوبارہ مذاکرات کی میز پر آنے جیسے چند ہی اختیارات بچتے ہیں لیکن ان تمام راستوں کی اپنی سیاسی اور عسکری قیمت ہے۔
سی این این کے مطابق، امریکی انٹیلی جنس اداروں اور عسکری حکام کا ماننا ہے کہ صرف بمباری سے ایرانی حکومت کے مذاکراتی موقف کو تبدیل کرنا ممکن نہیں ہے۔
اس پیچیدہ صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے ریپبلکن سینیٹر بل کیسیڈی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ”صدر کو اب امریکی عوام اور کانگریس کے ساتھ مل کر ایک نیشنل ڈائیلاگ (قومی مکالمہ) شروع کرنا چاہیے تاکہ اس مشکل صورتحال سے نکلنے کا کوئی نیا راستہ تلاش کیا جا سکے“۔
انہوں نے مزید کہا کہ ”ہمیں ایک ایسی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے جو ایران کو اس اہم بحری راستے (آبنائے ہرمز) پر کنٹرول نہ دے اور جس پر اربوں ڈالر ضائع بھی نہ ہوں“۔
رپورٹ کے مطابق، وائٹ ہاؤس اور دفاعی اداروں کے اندر سے بھی جنگ کی وسعت پر خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ اس سے امریکی ہتھیاروں کے ذخائر پر اثر پڑ رہا ہے۔
دوسری جانب امریکی انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ ایران اس وقت شدید دباؤ میں ہے۔
اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے امریکی نشریاتی ادارے ’این بی سی‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”ایرانی حکومت کو صدر کے اس بیان کو سنجیدگی سے لینا چاہیے کہ ہمارے تمام آپشنز کھلے ہیں“۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ”ایران اس وقت سفارتی اور معاشی طور پر الگ تھلگ ہے اور عسکری طور پر تباہ ہو چکا ہے، لہٰذا ہم مضبوط موقف کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں“۔
تاہم، ماہرین اور حالیہ عوامی سروے یہ بتاتے ہیں کہ اکثریت کا ماننا ہے کہ یہ جنگ امریکی انتظامیہ کی توقعات سے کہیں زیادہ طویل اور مشکل ثابت ہوئی ہے، جس سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک ایسا راستہ تلاش کرنا مشکل ہو گیا ہے جو امریکی اہداف کو بھی پورا کرے اور خطے کو مزید تباہی سے بھی بچا سکے۔