
لاہور کے علاقے ویلنشیاء ٹاؤن میں خاتون اور ان کے تین بچوں کی ہلاکت کے کیس سے متعلق تحقیقات جاری ہیں۔ واقعے پر امریکی حکام بھی متحرک ہو گئے ہیں، پولیس تفتیش کو مختلف پہلوؤں سے آگے بڑھا رہی ہے۔
لاہور کے علاقے ویلنشیا ٹاؤن میں خاتون اور ان کے تین بچوں کی ہلاکت کے مقدمے میں تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق جاں بحق خاتون علینہ، ان کے شوہر ناصر اور تینوں بچے امریکی شہریت رکھتے تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی سفارت خانے کے دو اہلکاروں نے ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور سے ملاقات کی، جہاں انہیں واقعے اور اب تک ہونے والی تفتیشی پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق ڈی آئی جی انویسٹی گیشن نے امریکی اہلکاروں کو بتایا کہ واقعے سے متعلق فرانزک اور دیگر اہم رپورٹس کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ تمام رپورٹس موصول ہونے کے بعد شواہد کی روشنی میں تفتیش کو حتمی شکل دی جائے گی۔
یاد رہے کہ 17 جولائی کو لاہور کے علاقے ویلنشیا ٹاؤن میں علینہ اور ان کے تین بچوں کی لاشیں گھر سے ملی تھیں، جب کہ بچوں کے والد ناصر ڈوگر کو پولیس نے تفتیش کے لیے حراست میں لیا تھا۔
ابتدائی تحقیقات میں زہر خورانی کا شبہ ظاہر کیا گیا تھا، تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے حقائق فرانزک اور پوسٹ مارٹم رپورٹس کی روشنی میں طے کیے جائیں گے۔
جاں بحق ہونے والوں کی شناخت 40 سالہ علینہ، 16 سالہ ریحان، 11 سالہ عرشیہ اور 9 سالہ ارسل کے نام سے ہوئی تھی۔