دھرمیندر پردھان: بھارت کے مستعفی وزیرِ تعلیم جو نوجوانی میں ‘پیپر لیک’ کے خلاف تحریک کا حصہ رہے

بھارت میں ’پیپر لیک اسکینڈل‘ کے معاملے پر طلبہ کے 36 روزہ احتجاج کے بعد وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ دھرمیندر پردھان حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے بااثر ترین رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جن امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر انہیں وزارت سے ہاتھ دھونا پڑا، 30 برس قبل وہ اسی معاملے پر طلبہ تحریک کی قیادت کر چکے تھے.

’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی قیادت میں شروع ہونے والی جین زی تحریک کے نتیجے میں دھرمیندر پردھان کے استعفے کو طلبہ کی بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ طلبا تحریک کا سب سے بنیادی مطالبہ وزیرِ تعلیم کا استعفیٰ ہی تھا کیوں کہ وہ انہیں اس تمام بحران کا ذمہ دار تصور کرتے تھے۔

نریندر مودی نے 2014 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد اپنی کابینہ میں کئی مرتبہ ردوبدل کیا تاہم دھرمیندر پردھان ان چند رہنماؤں میں شامل تھے جو 2014 سے 2026 تک مسلسل وفاقی کابینہ کا حصہ رہے۔ مودی حکومت کے 12 سالہ دورِ حکومت کے تین ادوار میں یہ پہلا موقع ہے کہ عوامی دباؤ پر کسی اہم وزیر کو استعفیٰ دینا پڑا۔

دھرمیندر پردھان نے جولائی 2021 میں وزارتِ تعلیم کا قلم دان سنبھالا تھا۔ اس سے قبل وہ تقریباً سات برس تک پٹرولیم سمیت دیگر اہم وزارتوں پر ذمہ داریاں ادا کر چکے ہیں۔ انہیں وزیرِ اعظم نریندر مودی کے انتہائی قریبی ساتھیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

مئی 2026 میں بھارت کے سب سے بڑے میڈیکل داخلہ امتحان (نیٹ) کے پرچے لیک ہونے اور امتحانی نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آئے تھے۔ اسی بحران کے بعد ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے نام سے بھارت کی تاریخ کی سب سے بڑی جین زی احتجاجی تحریک شروع ہوئی۔

طلبہ نے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کا ذمہ دار براہِ راست وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کو ٹھہراتے ہوئے نئی دہلی کے مشہور مقام جنتر منتر پر 5 جون کو احتجاج شروع کیا تھا، جو دیکھتے ہی دیکھتے ملک گیر تحریک میں تبدیل ہوگیا۔

احتجاجی تحریک کے نتیجے میں مسلسل دباؤ کے بعد 25 جولائی کو مودی حکومت نے مظاہرین کے آگے گھٹنے ٹیک دیے اور وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کو عہدہ چھوڑنا پڑا۔

اس پورے بحران کے دوران ایک سوال بار بار سامنے آتا رہا کہ آخر حکومت دھرمندر پردھان کو ہر قیمت پر بچانے کی کوشش کیوں کر رہی تھی؟

اس معاملے کو سمجھنے کے لیے دھرمیندر پردھان کے سیاسی کیرئیر اور حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی سے ان کی وابستگی کا جائزہ لینا ہوگا۔

دھرمیندر پردھان کے سیاسی سفر کا سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ نوجوانی میں وہ خود امتحانی پرچے آؤٹ ہونے کے خلاف احتجاجی تحریک چلا چکے ہیں۔

انہوں نے زمانۂ طالب علمی میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی طلبہ تنظیم اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) کے پلیٹ فارم سے طلبہ سیاست میں سرگرم رہے اور بشریات (اینتھروپولوجی) میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔

دی انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق دھرمندر پردھان کے زمانہ طالب علمی کے ایک ساتھی نے بتایا ہے کہ 1997 میں اڑیسہ میں بارہویں جماعت کے امتحانی پرچے آؤٹ ہوئے تو دھرمندر پردھان ’اے بی وی پی‘ کے جنرل سیکریٹری تھے۔ انہوں نے اڑیسہ حکومت کے خلاف احتجاج کی قیادت کی، اس دوران وہ پولیس کے تشدد کے باعث زخمی بھی ہوئے تھے۔

یہی وجہ ہے کہ ماضی میں خود طلبہ تحریک چلانے والے دھرمیندر پردھان کی جانب سے کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج کو ’ملک دشمن تحریک‘ قرار دینے پر بھی تنقید کی جارہی ہے۔

دھرمیندر پردھان نے اپنے استعفے میں بھی لکھا کہ ’میں نوجوانوں کے جذبات اور توقعات کا دل سے احترام کرتا ہوں۔ گزشتہ چند روز کے دوران پیش آنے والے واقعات نے مجھے شدید دکھی کیا ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ ملک دشمن عناصر دہلی اور ملک کے دیگر حصوں میں پیدا ہونے والی صورتِ حال سے فائدہ اٹھائیں، اس لیے اپنا استعفیٰ وزیرِ اعظم کو پیش کر رہا ہوں۔‘

دھرمیندر پردھان کے طلبہ سیاست سے قومی سیاست میں آنے کی کہانی بھی نہایت دلچسپ ہے۔ اپوزیشن جماعتیں دھرمیندر پردھان کو خاندانی سیاست کا نمائندہ قرار دیتی رہی ہیں کیوں کہ ان کے والد ڈاکٹر دیبیندر پردھان بی جے پی کے سینئر رہنما اور اٹل بہاری واجپائی حکومت میں وزیر رہ چکے تھے۔

تاہم بھارتی ویب سائٹ دی پرنٹ کے مطابق دھرمیندر پردھان نے پانچویں یا چھٹی جماعت میں ہی ’آر ایس ایس‘ کے پروگرامات میں جانا شروع کر دیا تھا۔ اسی تعلق کے ذریعے ’آر ایس ایس‘ رہنماؤں کا رابطہ ان کے والد سے ہوا اور بعد ازاں انہوں نے بی جے پی میں شمولیت اختیار کی۔

بعض مبصرین کے مطابق دھرمیندر پردھان کی ’آر ایس ایس‘ سے وابستگی ہی کی وجہ سے ان کے والد نے بھارتیہ جنتا پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی۔

حکمران جماعت بی جے پی میں دھرمندر پردھان کے اثر و رسوخ کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ طلبہ سیاست کے بعد فوراً ہی انہیں اڑیسہ اسمبلی کا ٹکٹ ملا اور وہ رکنِ اسمبلی (ایم ایل اے) منتخب ہوگئے۔ 2004ء میں وہ پہلی بار لوک سبھا (قومی اسمبلی) اور بعد ازاں بہار اور مدھیہ پردیش سے راجیہ سبھا (سینیٹ) کے رکن بھی رہے۔

بی جے پی میں انہیں ایک مضبوط آرگنائزر سمجھا جاتا ہے۔ اڑیسہ میں پارٹی کی مضبوط تنظیم سازی اور مشرقی بھارت میں بی جے پی کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا بڑا کریڈٹ بھی انہیں دیا جاتا ہے۔

دی پرنٹ کے مطابق 2024 میں بی جے پی نے اڑیسہ میں پہلی مرتبہ حکومت بنائی تو بیشتر سیاسی مبصرین کو یہی توقع تھی کہ دھرمیندر پردھان ہی وزیراعلیٰ بنیں گے لیکن پارٹی قیادت نے ان سے مرکز میں ہی رہنے پر اصرار کیا۔ اڑیسہ سمیت مشرقی بھارت کی متعدد ریاستوں میں ان کا ذاتی اثر و رسوخ آج بھی برقرار ہے۔

دھرمندر پردھان کے بطور وزیرِ تعلیم پانچ سالہ دور میں اُن پر ہندوتوا نظریات کے پرچار کے الزامات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔

اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ دھرمیندر پردھان نے بطور وزیرِ تعلیمی نصاب کو ’آر ایس ایس‘ کے ہندوتوا نظریے کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی۔ اپوزیشن کے مطابق بی جے پی حکومت کے اقتدار میں آتے ہی تعلیمی نصاب سے ہندوستان کی تاریخ کے اہم ترین ادوار خصوصاً مغل تاریخ، اندرا گاندھی کے قتل سے جڑے حقائق اور سیکولر مواد کو مسخ یا حذف کر دیا گیا ہے۔

دھرمیندر پردھان خود بھی ایک تقریب میں نئی قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی 2020) کی تیاری میں ’آر ایس ایس‘ کی ذیلی تنظیم ’وِدیا بھارتی‘ کے کردار کا اعتراف کرچکے ہیں۔

بھارتی ویب سائٹ ’کون کرنٹ‘ کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق موی حکومت کی جانب سے دھرمیندر پردھان کا دفاع کسی ایک فرد کا نہیں بلکہ گزشتہ 12 برس سے تعلیمی شعبے میں نافذ کی گئی پالیسیوں کا دفاع ہے۔

مستعفی ہونے والے وزیرِ تعلیم پر ایک اور بڑا الزام یہ بھی ہے کہ انہوں نے ملک کی بڑی جامعات، تعلیمی اداروں اور موجودہ بحران کی وجہ بننے والے ’نیٹ امتحان‘ کے منتظم ادارے نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی میں ’آر ایس ایس‘ یا ہندوتوا سوچ کے حامل افراد کو بھرتی کیا۔

ناقدین کے مطابق قابلیت کے بجائے نظریات کی بنیاد پر کی گئی تعیناتیوں نے ہی تعلیمی شعبے کو کمزور کیا ہے جس کی وجہ سے پرچے آؤٹ ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔

رپورٹ کے مطابق حکومت کو خدشہ ہے کہ دھرمیندر پردھان کو ہٹانے کی صورت میں نہ صرف وزارتِ تعلیم بلکہ مودی حکومت کی مجموعی تعلیمی پالیسی اور نظریاتی سمت پر بھی سنگین سوالات اٹھ سکتے ہیں۔ اسی لیے حکومت اور آر ایس ایس طویل عرصے ان کے پیچھے ڈٹ کر کھڑے نظر آئے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles