
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ یمن، باب المندب اور خطے کے دیگر تنازعات کا کوئی فوجی حل موجود نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یمن کی موجودہ صورتحال کو ایران سے منسوب کرنا درست نہیں، جبکہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔
قطری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ یمن، باب المندب اور خطے کے دیگر تنازعات کا کوئی فوجی حل موجود نہیں اور ان مسائل کے حل کے لیے مذاکرات ہی واحد راستہ ہیں۔
ایران کے سرکاری اخبار ’ایران ڈیلی‘ کو دیے گئے انٹرویو میں عباس عراقچی نے کہا کہ یمن کی موجودہ صورتِ حال کو ایران سے منسوب کرنا درست نہیں، کیونکہ باب المندب میں پیش آنے والے واقعات کی جڑیں یمن، سعودی عرب اور خطے کے دیگر ممالک کے درمیان پرانے تنازعات اور اختلافات میں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران کا مؤقف واضح ہے کہ خطے میں کشیدگی ختم کرنے کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کے درمیان بات چیت ناگزیر ہے۔
عباس عراقچی نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ ایران اور امریکا کے درمیان ثالثوں کے ذریعے رابطے جاری ہیں اور دونوں ممالک کے مؤقف ایک دوسرے تک پہنچائے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران نہ دھمکیوں سے خوف زدہ ہوگا اور نہ ہی کسی قسم کے دباؤ کے سامنے جھکے گا۔
کرغزستان میں ایک اجلاس کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک پر یہ حقیقت واضح ہو چکی ہے کہ امریکی فوجی اڈوں کی موجودگی اب خطے میں امن کے بجائے عدم تحفظ کا باعث بن رہی ہے۔