پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے بعد کرایوں میں اضافہ؛ ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کی دھمکی


حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ملک بھر میں پبلک ٹرانسپورٹ اور مال بردار گاڑیوں کے کرایوں میں اضافہ کر دیا گیا، جبکہ ٹرانسپورٹرز نے نئی پالیسی کے خلاف احتجاج اور ہڑتال کی دھمکی بھی دے ہے۔
سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے 44 پیسے اضافے کے بعد نئی قیمت 316 روپے 15 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 31 روپے مہنگا ہونے کے بعد 354 روپے 35 پیسے فی لیٹر کا ہو گیا ہے۔
حکومت نے اعلان کیا ہے کہ نئی قیمتوں کا اطلاق آئندہ تین روز تک ہوگا، جبکہ مستقبل میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین روزانہ کی بنیاد پر کیا جائے گا۔
قیمتوں میں اضافے کے فوری بعد پاکستان منی مزدا گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن نے ملک بھر میں منی مزدا گاڑیوں کے کرایوں میں 10 فیصد اضافے کا اعلان کر دیا، جس کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے۔

ایسوسی ایشن کے صدر حاجی شیر علی چوہدری کا کہنا ہے کہ ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھ گئے ہیں، جس کے باعث کرایوں میں اضافہ ناگزیر ہو گیا۔
لاہور سے مختلف شہروں کے لیے چلنے والی مسافر بسوں اور دیگر پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے، جس سے مسافروں پر اضافی مالی بوجھ پڑے گا۔
وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین اب اوگرا سات روزہ اوسط قیمت کی بنیاد پر کرے گا۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث کیا گیا ہے اور معاشی استحکام کے لیے ضروری ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ حکومت نے عوام پر اضافی بوجھ کم رکھنے کے لیے پیٹرولیم لیوی میں کمی کی ہے، جبکہ ذخیرہ اندوزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔
ادھر شہریوں، ٹرانسپورٹرز اور پیٹرول پمپ مالکان نے نئی قیمتوں اور روزانہ کی بنیاد پر نرخ مقرر کرنے کی پالیسی پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
پیٹرول پمپ ایسوسی ایشن کے چیئرمین نعمان علی بٹ نے کہا کہ اگر حکومت نے فیصلہ واپس نہ لیا تو آئندہ ہفتے احتجاج اور ہڑتال پر غور کیا جائے گا۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ نئی قیمتوں کے تعین سے قبل تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles