
ایران نے مبینہ طور پر یمن کے حوثی باغیوں کو پیغام پہنچایا ہے کہ اگر امریکا کی جانب سے ایرانی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تو وہ تیل کی ترسیل کے اہم راستے باب المندب کو بند کرنے کے لیے تیار رہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے اپنے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بحیرۂ احمر کے راستے تیل کی ترسیل متاثر کرنے کے لیے تیار رہنے کا پیغام دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ معاملہ ایرانی قیادت نے اس معاملے پر تفصیلی غور و فکر کے بعد حال ہی میں حوثیوں کو اس فیصلے سے آگاہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کی توانائی تنصیبات پر حملے کی دھمکی دی ہے۔
گزشتہ دنوں فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر ایران اگلے ہفتے تک دوبارہ مذاکرات اور نئے معاہدے پر رضامند نہ ہوا تو ہم ان کے تمام پاور پلانٹس اور پلوں کو تباہ کردیں گے۔
دوسری جانب رائٹرز نے حوثی گروپ کے قریب سمجھے جانے والے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر کے داخلی راستے باب المندب کے قریب کارروائیوں کی تیاری مکمل کر لی ہے۔
رپورٹ کے مطابق حوثیوں نے یمن کے پہاڑی علاقوں، الحدیدہ بندرگاہ اور خلیجِ عدن کے قریب میزائل اور ڈرونز تعینات کر دیے ہیں اور کارروائی کے حکم کے انتظار میں ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بحیرۂ احمر اور باب المندب میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی توانائی بحران کو مزید سنگین بنا سکتی ہے۔ کیوں کہ بحیرۂ احمر میں حوثیوں کے حملوں کی صورت میں مشرق وسطیٰ سے تیل کی ترسیل کے دو اہم راستے بیک وقت متاثر ہو سکتے ہیں۔
اس صورت حال میں آبنائے ہرمز اور باب المندب دونوں راستوں پر دباؤ عالمی توانائی منڈیوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق حوثیوں کے قریبی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ باب المندب سے متعلق کسی بھی کارروائی کے فیصلے میں مرکزی کردار یمن میں موجود ایرانی پاسداران انقلاب کے نمائندوں کا ہوگا۔