آبنائے ہرمز میں دو بحری جہازوں کی ٹکر؛ ایران نے 23 ڈوبتے غیر ملکیوں کو بچا لیا

ایران کے قریب آبنائے ہرمز میں قشم جزیرے کے شمالی حصے کے نزدیک دو مال بردار بحری جہازوں کے درمیان شدید تصادم کے نتیجے میں ایک جہاز کو سنگین نقصان پہنچا، تاہم ایران کی امدادی ٹیموں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اس پر سوار 23 غیر ملکی عملے کے ارکان کو بحفاظت بچا لیا ہے۔

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق حادثہ اس وقت پیش آیا جب ایک بڑا مال بردار جہاز دوسرے بحری جہاز سے بری طرح ٹکرا گیا۔

تصادم اس قدر شدید تھا کہ متاثرہ جہاز کے نچلے حصے کو شدید نقصان پہنچا، جس کے باعث اس میں تیزی سے پانی بھرنا شروع ہوگیا اور جہاز کے ڈوبنے کا خطرہ پیدا ہوگیا۔

رپورٹ کے مطابق صورت حال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے جہاز کے کپتان نے فوری طور پر ہنگامی انخلا کا حکم دیا، جس کے بعد عملے نے جہاز خالی کرنا شروع کر دیا۔

ایرانی حکام اور امدادی اداروں نے اطلاع ملتے ہی ریسکیو آپریشن شروع کیا اور جہاز پر سوار تمام 23 غیر ملکی عملے کے ارکان کو بحفاظت نکال کر قشم جزیرے پر منتقل کر دیا۔

فارس نیوز ایجنسی کے مطابق امدادی کارروائی بروقت مکمل کی گئی، جس کے باعث کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

ایجنسی کا کہنا ہے کہ تصادم کے بعد متاثرہ جہاز میں تیزی سے پانی بھر رہا تھا، تاہم امدادی ٹیموں نے تمام افراد کو محفوظ مقام تک منتقل کرنے میں کامیابی حاصل کی۔

حکام کے مطابق حادثے کے بعد متاثرہ جہاز کی صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کو محفوظ رکھنے اور حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے بھی تحقیقات اور ضروری اقدامات جاری ہیں۔

دوسری جانب ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے رپورٹ کیا کہ منگل کے روز بندر عباس میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ جزیرہ کیش پر چھ دھماکوں اور قشم جزیرے پر بھی مزید دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ تاہم ان دھماکوں اور بحری حادثے کے درمیان کسی براہ راست تعلق کی تصدیق نہیں کی گئی۔

یہ تمام واقعات ایسے وقت میں پیش آئے ہیں جب آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف سکیورٹی صورت حال انتہائی کشیدہ ہے۔

یہ کشیدگی 28 فروری 2026 کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ کے بعد مزید بڑھ گئی تھی۔

جون 2026 میں امریکا اور ایران کے درمیان قطر اور پاکستان کی ثالثی میں جنگ بندی پر مبنی ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے، جسے مستقل امن معاہدے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا تھا۔ تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 8 جولائی کو اعلان کیا تھا کہ جنگ بندی ختم ہو چکی ہے، جس کے بعد دونوں جانب دوبارہ کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles