فٹبال ورلڈ کپ: انگلینڈ کے خلاف کھیلنے پر ارجنٹائن اپنی جرسی تبدیل کیوں کرنا چاہتا ہے؟

فیفا ورلڈ کپ 2026 کے سیمی فائنل میں ارجنٹائن اور انگلینڈ کے درمیان ہونے والے بڑے مقابلے سے قبل ایک دلچسپ نفسیاتی پہلو بھی سامنے آیا ہے۔ دفاعی چیمپئن ارجنٹائن نے فیفا سے درخواست کی کہ اسے اس اہم میچ میں اپنی گہرے نیلے رنگ کی متبادل جرسی پہننے کی اجازت دی جائے، تاکہ انگلینڈ کے خلاف ماضی کی کامیاب یادوں کو ایک بار پھر تازہ کیا جا سکے۔

ارجنٹائن کا ماننا ہے کہ یہ جرسی ٹیم کے اعتماد کو مزید مضبوط بنا سکتی ہے، کیونکہ انگلینڈ کے خلاف ورلڈ کپ میں حاصل ہونے والی اس کی تین فتوحات میں سے دو اسی متبادل کٹ میں تھیں۔ فیفا نے بھی اس درخواست کی منظوری دیتے ہوئے تصدیق کر دی ہے کہ سیمی فائنل میں ارجنٹائن گہرے نیلے اور سیاہ رنگ کی متبادل جرسی جبکہ انگلینڈ اپنی روایتی سفید جرسی میں میدان میں اترے گا۔

اس فیصلے نے فٹبال شائقین کو 1986 اور 1998 کے وہ تاریخی مقابلے یاد دلا دیے ہیں، جب یہی جرسی ارجنٹائن کے لیے یادگار کامیابیوں کی علامت بنی تھی۔

1986 کے ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل میں ڈیاگو میراڈونا نے انگلینڈ کے خلاف وہ تاریخی میچ کھیلا تھا جس میں ان کا متنازع ”ہینڈ آف گاڈ“ گول اور شاندار انفرادی کوشش سے کیا گیا دوسرا گول آج بھی فٹبال کی تاریخ کے یادگار ترین لمحات میں شمار ہوتا ہے۔ اس روز ارجنٹائن نے نیلی جرسی پہن رکھی تھی اور 2-1 سے کامیابی حاصل کی تھی۔

اسی طرح 1998 کے ورلڈ کپ میں بھی ارجنٹائن نے گہرے نیلے رنگ کی متبادل جرسی پہن کر انگلینڈ کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں شکست دی تھی۔ دوسری جانب 1966 اور 2002 کے ورلڈ کپ میں جب ارجنٹائن اپنی روایتی آسمانی اور سفید دھاری دار جرسی میں انگلینڈ کے خلاف میدان میں اترا تو اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

اس کی تاریخی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ 2022 میں انگلینڈ کے سابق مڈفیلڈر اسٹیو ہوج نے میراڈونا کی 1986 کے اسی میچ میں پہنی گئی نمبر 10 جرسی نیلامی میں 70 لاکھ پاؤنڈ سے زائد، یعنی تقریباً 93 لاکھ امریکی ڈالر میں فروخت کی تھی۔

رواں ورلڈ کپ میں بھی ارجنٹائن کی کارکردگی متاثر کن رہی ہے۔ ٹیم نے اپنے 6 میں سے 5 میچ روایتی جرسی میں کھیلے اور تمام جیتے، جبکہ متبادل جرسی صرف ایک بار اردن کے خلاف استعمال کی، جہاں اسے 3-1 سے کامیابی ملی۔

دوسری جانب انگلینڈ نے بھی اپنی سفید جرسی میں عمدہ کارکردگی دکھائی ہے، 5 میچوں میں 4 میں فتوحات حاصل کیں جبکہ ایک مقابلہ برابر رہا۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا ماضی کی یادوں سے جڑی یہ نیلی جرسی ارجنٹائن کے لیے ایک بار پھر خوش قسمتی ثابت ہوتی ہے یا انگلینڈ تاریخ کا رخ بدلنے میں کامیاب رہتا ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles