فیفا ورلڈ کپ کے 96 میچز میں سب سے زیادہ گول کس ٹیم نے کیے؟

فیفا ورلڈ کپ 2026 کے کوارٹر فائنلز کا مرحلہ ابھی شروع بھی نہیں ہوا لیکن شائقین اور مبصرین کے درمیان یہ بحث زور پکڑ چکی ہے کہ آیا یہ تاریخ کا بہترین ورلڈ کپ ہے، تین ممالک کی مشترکہ میزبانی، 48 ٹیموں پر مشتمل نئے فارمیٹ، ریکارڈ تعداد میں گولز، سنسنی خیز مقابلوں، تاریخی ریکارڈز اور آخری لمحات میں ہونے والے فیصلوں نے اس ٹورنامنٹ کو اب تک کے یادگار ترین ورلڈ کپس میں شامل کر دیا ہے۔

خبر رساں ادارے گلف نیوز کے مطابق امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کی مشترکہ میزبانی میں ہونے والا فیفا ورلڈ کپ 2026 کئی حوالوں سے تاریخ ساز ثابت ہوا ہے۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ورلڈ کپ کی میزبانی تین ممالک مشترکہ طور پر کر رہے ہیں جب کہ پہلی بار 48 ٹیمیں بھی ٹورنامنٹ کا حصہ بنی ہیں، جس سے میچوں کی تعداد اور عالمی نمائندگی میں نمایاں اضافہ ہوا۔

ورلڈ کپ میں کوارٹر فائنلز سے قبل ہی کئی نئے ریکارڈ قائم ہو چکے ہیں، ایونٹ میں اب تک کھیلے گئے 104 میں سے 96 میچز میں مجموعی طور پر 280 گول اسکور کیے جا چکے ہیں، یعنی فی میچ اوسط 2.92 گولز رہی، جو 1970 کے میکسیکو ورلڈ کپ کے بعد سب سے زیادہ ہے، جہاں 32 میچوں میں 95 گول کیے گئے تھے اور فی میچ اوسط 2.97 گولز رہی تھی۔

اعداد و شمار کے مطابق اس ورلڈ کپ میں ہونے والے 74.6 فیصد گول اوپن پلے سے اسکور کیے گئے، جو ورلڈ کپ کی تاریخ کے بلند ترین تناسب میں سے ایک ہے۔

ارجنٹینا اب تک 14 گولز کے ساتھ ٹورنامنٹ کی سب سے زیادہ گول کرنے والی ٹیم ہے جب کہ راؤنڈ آف 16 کے 8 میچز میں مجموعی طور پر 23 گول کیے گئے، جہاں فی میچ اوسط 2.88 گولز ریکارڈ کی گئی۔

ناک آؤٹ مرحلے کے مقابلے بھی غیر معمولی طور پر دلچسپ رہے ہیں، اب تک کھیلے گئے 24 ناک آؤٹ میچز میں سے 8 کے فیصلہ کن گول 85ویں منٹ کے بعد اسکور کیے گئے جب کہ 4 میچوں کا فیصلہ پنالٹی شوٹ آؤٹ پر ہوا۔

ارجنٹینا نے کیپ ورڈے کے خلاف اضافی وقت میں کامیابی حاصل کی جب کہ مصر کے خلاف اینزو فرنینڈیز کا 90ویں منٹ کے بعد کیا گیا فاتحانہ گول اس ورلڈ کپ کا آخری لمحات میں کیا جانے والا دسواں فیصلہ کن گول بن گیا، جو ورلڈ کپ کا نیا ریکارڈ ہے۔ اسی گول نے فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ میں مجموعی گولز کی تعداد 3 ہزار تک بھی پہنچا دی۔

جولائی کے دوران کئی یادگار مقابلے بھی دیکھنے میں آئے۔ بیلجیئم نے دو گول کے خسارے کے بعد سینیگال کو 3-2 سے شکست دی جب کہ ارجنٹینا نے بھی مصر کے خلاف دو گول کے خسارے سے واپسی کرتے ہوئے 3-2 سے کامیابی حاصل کی۔ 1970 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ ایک ہی ورلڈ کپ میں متعدد ٹیموں نے دو گول کے خسارے کو فتح میں تبدیل کیا۔

اسی طرح انگلینڈ نے ایزٹیکا اسٹیڈیم میں میزبان میکسیکو کو 3-2 سے شکست دے کر شائقین کو حیران کر دیا۔ جیرل کوانساہ کے ریڈ کارڈ کے بعد انگلینڈ تقریباً 40 منٹ تک 10 کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلتا رہا لیکن اس کے باوجود کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔

گولڈن بوٹ کی دوڑ بھی انتہائی دلچسپ مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ ارجنٹینا کے لیونل میسی 8 گولز کے ساتھ سرفہرست ہیں جب کہ فرانس کے کیلیان ایمباپے اور ناروے کے ایرلنگ ہالینڈ 7،7 گولز کے ساتھ دوسرے نمبر پر موجود ہیں۔ ہیری کین بھی 6 گولز کے ساتھ دوڑ میں شامل ہیں۔ یہ فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہے کہ ایک ہی ایڈیشن میں 3 مختلف کھلاڑی 7 یا اس سے زیادہ گول کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

فیفا ورلڈ کپ کی مجموعی تاریخ میں سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑیوں کی فہرست میں بھی لیونل میسی 21 گولز کے ساتھ پہلے نمبر پر ہیں جب کہ کیلیان ایمباپے 19 گولز کے ساتھ دوسرے نمبر پر موجود ہیں۔

ڈسپلن کے حوالے سے اب تک ٹورنامنٹ میں مجموعی طور پر 259 یلو کارڈز دکھائے جا چکے ہیں، جو فی میچ اوسط 2.70 بنتے ہیں جب کہ 14 ریڈ کارڈز بھی دکھائے گئے ہیں، جن کی فی میچ اوسط 0.15 رہی۔

ادھر کیلیان ایمباپے نے فیفا ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں سب سے زیادہ گول کرنے کا اپنا ریکارڈ مزید مستحکم کرتے ہوئے مجموعی تعداد 11 تک پہنچا دی ہے، جو کسی بھی کھلاڑی کی جانب سے ناک آؤٹ مرحلے میں سب سے زیادہ گول ہیں۔

شائقین اور مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر اس ورلڈ کپ کا فائنل بھی 2022 کے ارجنٹینا اور فرانس کے درمیان کھیلے گئے تاریخی فائنل جیسا سنسنی خیز ثابت ہوا تو فیفا ورلڈ کپ 2026 کو تاریخ کے عظیم ترین فٹبال ٹورنامنٹس میں شمار کیے جانے پر شاید ہی کوئی اختلاف باقی رہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles