حماس کی جگہ غزہ کا انتظام سنبھالنے والی نئی ’قومی کمیٹی‘ کیا ہے؟

غزہ کی پٹی میں پچھلے بیس سال سے حکومت کرنے والی تنظیم حماس نے اپنی حکومت ختم کرنے اور اقتدار ایک نئی کمیٹی کے حوالے کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس نئی کمیٹی کا نام ’غزہ کی انتظامیہ کے لیے قومی کمیٹی‘ (این سی اے جی) ہے، جسے امریکا اور اقوامِ متحدہ کی حمایت حاصل ہے۔

گزشتہ روز حماس نے امریکی سرپرستی میں بننے والی اس عارضی حکومت کو دعوت دی تھی کہ وہ آ کر غزہ کا انتظام سنبھالے۔

حماس کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ قدم اس لیے اٹھایا ہے تاکہ اسرائیل کو غزہ پر حملے جاری رکھنے کا کوئی بہانہ نہ ملے۔

تاہم، ابھی یہ صاف نہیں ہے کہ اس فیصلے سے غزہ میں جاری انسانی بحران اور جزوی جنگ بندی پر کتنا اثر پڑے گا۔

یہ نئی کمیٹی دراصل رواں سال جنوری میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک قرارداد کے تحت بنائی گئی تھی، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے کا حصہ ہے۔

اس کمیٹی کا کام غزہ میں روزمرہ کے عوامی کاموں اور سول نظام کو چلانا ہے۔

اس کمیٹی میں 13 ارکان شامل ہیں اور یہ سب کے سب غزہ سے تعلق رکھنے والے پڑھے لکھے اور ماہر فلسطینی ہیں۔

اس کمیٹی کے سربراہ علی شعث ہیں، جو ماضی میں فلسطینی اتھارٹی کے نائب وزیر رہ چکے ہیں۔

یہ کمیٹی فی الحال مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں بیٹھی ہے کیونکہ اسرائیل نے پچھلے چھ مہینوں سے اسے غزہ میں داخل ہونے سے روک رکھا ہے۔

حماس کے حکومت چھوڑنے کے فیصلے کے بعد کمیٹی کے سربراہ علی شعث نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ جیسے ہی ضروری وسائل اور سہولیات مہیا ہوں گی کمیٹی اپنی قومی ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے پوری طرح تیار ہے ۔

گزشتہ روز حماس کی حکومت کے سربراہ محمد الفرا نے اپنے عہدے سے استعفا دیتے ہوئے کہا کہ میں نے یہ یقینی بنانے کے بعد کہ غزہ میں سرکاری نظام کو نئی کمیٹی کے حوالے کرنے کی تمام تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں، اپنے عہدے سے استعفا دے دیا ہے۔

حماس کے ترجمان حازم قاسم نے بھی بتایا کہ حماس نے یہ نیا قدم اس لیے اٹھایا ہے تاکہ قابض اسرائیل کے تمام بہانے ختم کیے جا سکیں جو اب بھی جارحیت اور نسل کشی کی جنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔

حماس کے ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ اس فیصلے پر تمام فلسطینی دھڑوں، سول سوسائٹی اور عالمی برادری سے بات چیت ہوئی ہے اور سب نے اس کا خیرمقدم کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب گیند ثالثوں اور ضامن ملکوں کے کورٹ میں ہے کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالیں تاکہ وہ اس قومی کمیٹی کو غزہ میں داخل ہونے دے۔

حماس کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسرائیل جان بوجھ کر کمیٹی کو روک رہا ہے تاکہ غزہ حکومت میں ایک خلا پیدا کیا جا سکے اور فلسطینیوں کی تکلیفیں بڑھائی جا سکیں۔

دوسری طرف، حکومت کی تبدیلی کےاس منصوبے کے راستے میں اب بھی بہت سی رکاوٹیں ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بنائے گئے ’بورڈ آف پیس‘ نے حماس کے اس اعلان پر کچھ خاص جوش نہیں دکھایا اور صرف اتنا کہا کہ انہوں نے اس اعلان کو نوٹ کر لیا ہے۔

بورڈ کا کہنا ہے کہ اصل اصول ایک ہی حکومت، ایک قانون اور ایک ہی ہتھیار کا ہے، یعنی غزہ کے تمام ہتھیار اس نئی کمیٹی کے کنٹرول میں ہونے چاہئیں۔

حماس کا موقف ہے کہ وہ اپنے ہتھیار تب تک نہیں چھوڑے گی جب تک اسرائیل غزہ کے ساٹھ فیصد حصے پر قابض ہے اور جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے۔

اقوامِ متحدہ میں امریکی نمائندے نکولے ملاڈینوف نے امن عمل میں رکاوٹ کا ذمہ دار حماس کو ٹھہرایا ہے، لیکن ماہرین ان پر اسرائیل کی طرفداری کا الزام لگاتے ہیں کیونکہ وہ اسرائیلی حملوں پر خاموش رہتے ہیں۔

بین الاقوامی ماہرین کا کہنا ہے کہ حماس کا یہ فیصلہ دراصل جمود کو توڑنے کی ایک سفارتی کوشش ہے۔

انٹرنیشنل کرائسز گروپ کے ماہر میکس روڈن بیک نے اس صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ غزہ کی بے پناہ تباہی اور امریکی بورڈ کی طرف سے حماس کے ہتھیار ڈالنے کی سخت شرط کے سامنے، حماس کوئی نہ کوئی راستہ نکالنا چاہتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی مستقبل نظر نہ آنے کی وجہ سے حماس ہتھیار تو نہیں ڈال سکتی، لیکن وہ اقتدار چھوڑنے کا اشارہ دے کر گیند دوبارہ امریکی بورڈ کے کورٹ میں ڈال رہی ہے تاکہ وہ کچھ نرمی دکھائے۔

ایک اور ماہر محمد شہادہ نے کہا کہ حماس جانتی ہے کہ اگر وہ یکطرفہ طور پر بھی ہتھیار ڈال دے، تب بھی اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو الیکشن سے پہلے غزہ میں تعمیرِ نو کی اجازت نہیں دیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ چونکہ اسرائیل میں اکتوبر کے آخر میں الیکشن ہونے والے ہیں، اس لیے سفارت کاروں کا ماننا ہے کہ تب تک غزہ کے مستقبل پر کسی بڑی پیش رفت کی امید بہت کم ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles