سعودی عرب کا ایشیائی مارکیٹ کے لیے خام تیل سستا کرنے کا اعلان

سعودی عرب نے ایشیائی خریداروں کے لیے خام تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی کا اعلان کردیا ہے۔ سعودی کمپنی آرامکو نے اگلے ماہ کے لیے عرب لائٹ خام تیل کی قیمت میں 11 ڈالر فی بیرل کمی کردی، جس کے بعد ایشیائی مارکیٹ میں سعودی تیل علاقائی بینچ مارک کے مقابلے میں رعایتی نرخوں پر دستیاب ہوگا۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق سعودی عرب نے ایشیا کے لیے عرب لائٹ کروڈ کی قیمت علاقائی بینچ مارک کے مقابلے میں 1.50 ڈالر فی بیرل کم مقرر کی ہے۔

قیمتوں میں یہ کمی عالمی تیل مارکیٹ میں بڑھتی مسابقت اور طلب و رسد کی صورتحال کے پیش نظر کی گئی ہے۔

قیمتوں میں کمی کے بعد عرب لائٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 75 ڈالر 68 سینٹ فی بیرل سے کم ہو کر 64 ڈالر 68 سینٹ فی بیرل ہوجائے گی۔

تیل کی قیمتوں میں اچانک کمی کی بڑی وجہ عالمی مارکیٹ میں بڑھتی مسابقت کو قرار دیا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جون میں ہونے والے عارضی معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز کے راستے تیل کی ترسیل میں بہتری آئی اور خام تیل کی سپلائی بحال ہونے لگی، جس سے عالمی قیمتوں پر دباؤ بڑھ گیا۔

تیل کے تاجروں کے مطابق خلیجی ممالک کے دیگر تیل پیدا کرنے والے ممالک نے بھی خریداروں کو متوجہ کرنے کے لیے قیمتوں میں کمی کی ہے، جبکہ ایران کو خام تیل فروخت کرنے کے لیے عارضی پابندیوں میں نرمی نے بھی عالمی مارکیٹ میں مقابلہ بڑھا دیا ہے۔

توانائی کے شعبے کی تجزیہ کار ایما لی نے کہا کہ سعودی عرب کی جانب سے قیمتوں میں بڑی کمی کوئی حیرت کی بات نہیں کیونکہ مشرق وسطیٰ کے دیگر خام تیل کی قیمتیں اس سے بھی زیادہ کم ہو چکی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ چین سمیت ایشیا میں کمزور طلب اور ایرانی خام تیل کی فروخت کے لیے پابندیوں میں نرمی نے فروخت کنندگان کے درمیان مقابلہ بڑھا دیا ہے اور مارکیٹ کا جھکاؤ خریداروں کے حق میں ہوگیا ہے۔

بھارتی ریفائنری سے وابستہ ایک ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ مجھے اپر زکم اور داس خام تیل دبئی قیمت سے 7 ڈالر کم میں مل رہا ہے، تو میں سعودی تیل زیادہ کیوں خریدوں گا؟

ایک اور تاجر کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کے اندر سے سعودی تیل حاصل کرنا بہت زیادہ مہنگا ہے۔

تاجر کے مطابق متحدہ عرب امارات کا اپر زکم خام تیل عمان کی بندرگاہ صحار پر شپ ٹو شپ منتقلی کے لیے دبئی قیمت سے 6 سے 8 ڈالر فی بیرل کم فروخت ہو رہا ہے، جبکہ سعودی عرب کی راس تنورا بندرگاہ سے تیل لانے کے لیے بڑے ٹینکرز کے اخراجات اس سے کہیں زیادہ ہیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles