
ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ سید علی خامنہ کی نمازِ جنازہ کے سلسلے میں ملک بھر میں تیاریاں جاری ہیں، جبکہ ان کا جسدِ خاکی تہران کے جنوبی علاقے میں واقع امام خمینی حسینیہ منتقل کر دیا گیا ہے۔
ایرانی ذرائع کے مطابق نمازِ جنازہ میں ملک بھر سے لاکھوں افراد کی شرکت متوقع ہے، جبکہ مختلف سرکاری ادارے اور انتظامیہ سیکیورٹی اور دیگر انتظامات کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہیں۔
بی بی سی کے مطابق ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کی تجہیز و تدفین کی تقریبات کا باقاعدہ آغاز تہران کے بڑے مذہبی اور ثقافتی مرکز ’امام خمینی مصلیٰ‘ سے ہو گیا ہے۔ اس دوران ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں خامنہ ای کا تابوت اس مرکز میں لایا گیا۔
آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر ایران بھر میں سوگ کی فضا قائم ہے اور شہری اپنے محبوب رہنما کو خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں۔
دوسری جانب ایرانی حکومت نے 6 جولائی کو ملک بھر میں عام تعطیل کا اعلان یا ہے تاکہ عوام نمازِ جنازہ اور دیگر سوگوار تقریبات میں شرکت کر سکیں۔
حکومتی ترجمان کے مطابق 8 جولائی کو ملک بھر میں یومِ سوگ بھی منایا جائے گا، جس کے دوران سرکاری سطح پر خصوصی تقریبات اور دعائیہ اجتماعات منعقد کیے جائیں گے۔
اس سے قبل ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’ارنا‘ نے بتایا تھا کہ وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں سربراہانِ مملکت، پارلیمانی رہنما، وزرائے خارجہ اور مختلف ممالک کے خصوصی سرکاری نمائندے شرکت کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ جمعہ 3 جولائی کی صبح 8 بجے تہران میں الوداعی تقریب کا آغاز ہوگا، جب کہ اسی روز غیر ملکی وفود اور اعلیٰ سیاسی شخصیات بھی تعزیتی تقریبات میں شریک ہوں گی۔
ان کے بقول یہ تقریب نہ صرف ایرانی عوام بلکہ خطے، مسلم دنیا اور دیگر اقوام کے لیے بھی غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے۔
دوسری جانب سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین اور نمازِ جنازہ کی تقریبات میں شرکت کے لیے پاکستان سے چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی سربراہی میں ایک وفد تہران پہنچ چکا ہے جبکہ وزیرِ اعظم شہباز شریف کی قیادت میں اعلیٰ سطحی وفد آج (جمعہ) تہران روانہ ہو گا۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی بھی تہران پہنچ چکے ہیں جہاں آمد پر ایرانی وزیرِ داخلہ سکندر مومنی نے اُن کا استقبال کیا۔
سید علی خامنہ ای کے جنازہ اور تدفین کی سات روزہ تقریبات کا آغاز آج (تین جولائی) سے تہران میں ہو رہا ہے جبکہ اِن تقریبات کا اختتام نو جولائی کو مشہد میں حرم امام رضا میں تدفین پر ہو گا۔
یاد رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو ایران پر ہونے والے ابتدائی امریکی اور اسرائیلی حملے میں شہید ہوئے تھے۔ اس حملے میں ان کی بہو اور موجودہ سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کی اہلیہ بھی شہید ہو گئی تھیں۔