یورپ تاریخ کی قیامت خیز گرمی کی لپیٹ میں، 1300 اموات ریکارڈ

یورپ اس وقت موسم گرما کی تاریخ کی غیر معمولی اور شدید ترین گرمی کی لہر کا سامنا کر رہا ہے، جہاں کئی ممالک میں درجہ حرارت کے تمام پرانے ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ یہ شدید گرمی سینکڑوں اضافی اموات کا سبب بن رہی ہے اور صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریئس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ 21 جون سے اب تک یورپ میں شدید گرمی سے منسلک 1300 سے زائد اضافی اموات ریکارڈ کی جا چکی ہیں۔

ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریئس کا کہنا تھا کہ شدید گرمی سے ہونے والی اموات کو اکثر خاموش قاتل کہا جاتا ہے، کیونکہ یورپ کے گھروں، دفاتر اور اسکولوں کی تعمیر ایسے درجہ حرارت کے لیے نہیں کی گئی تھی۔

انہوں نے مزید کہنا تھا کہ یورپ دنیا کا سب سے تیزی سے گرم ہونے والا براعظم ہے، جہاں درجہ حرارت عالمی اوسط رفتار سے تقریباً دو گنا زیادہ بڑھ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت لاکھوں لوگ شدید گرمی میں زندگی گزار رہے ہیں، سینکڑوں افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، اسکول بند ہیں اور بجلی کا نظام شدید دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے یورپی ممالک پر زور دیا کہ وہ عوام کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے ہیٹ ہیلتھ ایکشن پلان پر عمل درآمد کریں۔

ٹیڈروس ایڈہانوم نے مزید لکھا کہ موسمیاتی تبدیلی اور عالمی حدت کے باعث پہلے جو گرمی کی لہر ایک نسل میں ایک بار آتی تھی، اب تقریباً ہر سال آ رہی ہے۔ ہمیں پہلے ہی خبردار کیا گیا تھا۔

فرانس کی وزارتِ صحت کے مطابق گزشتہ بدھ سے ملک میں تقریباً ایک ہزار اضافی اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان میں زیادہ تر افراد کی عمر 65 سال یا اس سے زیادہ تھی، جبکہ گھروں میں ہونے والی اموات کی تعداد میں 40 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔

موسمیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ 20 جون سے شروع ہونے والی یہ گرمی کی لہر یورپ کی تاریخ کی بدترین ہیٹ ویو ہے۔ شدید گرمی نے بجلی کی پیداوار، ٹرانسپورٹ، صحت کے نظام اور بنیادی ڈھانچے کو متاثر کیا ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلی کے بغیر ایسی شدید گرمی تقریباً ناممکن تھی، جبکہ رات کے وقت غیر معمولی درجہ حرارت بڑھنے کے امکانات گزشتہ بیس برسوں کے مقابلے میں سو گنا زیادہ ہو گئے ہیں۔

آسٹریا، جمہوریہ چیک، جرمنی اور پولینڈ میں درجہ حرارت نے نئے ریکارڈ قائم کیے۔

فرانس کے بعض علاقوں میں طوفان بھی آئے جن سے سفر اور بجلی کی فراہمی مزید متاثر ہوئی۔ جرمنی میں نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کی ایک بڑی ریلوے لائن پر ٹرین سروس محدود کر دی گئی جبکہ لیپزگ شہر میں ٹرام سروس معطل رہی۔ مقامی میڈیا کے مطابق بہت سے لوگ دن بھر گھروں میں محصور رہے اور سورج ڈوبنے کے بعد ہی باہر نکلے۔

روم میں پوپ لیو نے سینٹ پیٹرز اسکوائر میں شدید گرمی کے باوجود دعا میں شریک ہونے والے افراد کا شکریہ ادا کیا۔

شدید گرمی نے یورپ کے دریاؤں کو بھی متاثر کیا ہے۔ ہنگری کے پاکس ایٹمی بجلی گھر نے دریائے ڈینیوب کے پانی کا درجہ حرارت بڑھنے کے باعث اپنی پیداوار کم کر دی۔ اٹلی میں دریائے پو کا بہاؤ کم ہونے سے سمندری پانی 18 کلومیٹر اندر تک پہنچ گیا ہے جس سے زراعت اور دلدلی علاقوں کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

گرمی سے بچنے کے لیے پانی میں جانے والے درجنوں افراد کے ڈوبنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

اٹلی میں وزیرِ کابینہ یوجینیا روکیلا کے شوہر کی تلاش جاری ہے جو روم کے قریب جھیل ویکو میں تیراکی کے دوران لاپتا ہو گئے تھے۔

جمہوریہ چیک کی حکومت نے شہریوں کو جسمانی مشقت سے گریز کی ہدایت کی ہے اور فضا میں اوزون کی خطرناک سطح بڑھنے کے باعث دھند سے متعلق وارننگ جاری کی ہے۔

ماہرین موسمیات کے مطابق فرانس، جرمنی اور جمہوریہ چیک کے بعض علاقوں میں مزید طوفان آ سکتے ہیں، جبکہ مغربی یورپ کے کئی حصوں میں اس ہفتے موسم نسبتاً ٹھنڈا ہونے کی توقع ہے کیونکہ ہیٹ ویو وسطی یورپ اور بلقان کی طرف بڑھ رہی ہے۔

اُدھر فرانس کے وزیرِ داخلہ لاراں نونیز نے بتایا کہ ہیٹ ویو شروع ہونے کے بعد سے ملک میں کم از کم 74 افراد ڈوب کر جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ انہوں نے اخبار لی پاریزین سے گفتگو میں کہا کہ زیادہ تر اموات ایسی ندیوں، جھیلوں اور تالابوں میں ہوئیں جہاں نہ تو نگرانی موجود تھی اور نہ ہی حفاظتی انتظامات۔“

فرانس کے محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ ملک کے بیشتر علاقوں میں شدید گرمی کی شدت کم ہوئی ہے، تاہم شمال مشرقی علاقوں میں اب بھی ہیٹ الرٹ برقرار ہے۔

وزیرِ صحت اسٹیفنی رسٹ نے اخبار لا ٹریبون سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گرمی کی لہر کے اثرات موسم بہتر ہونے کے بعد بھی تقریباً دس دن تک رہ سکتے ہیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles