
برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) نے دعویٰ کیا ہے کہ ہفتے کے روز آبنائے ہرمز میں ایک آئل ٹینکر کو نامعلوم سمت سے آنے والے پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا، جس سے جہاز کے برج (کنٹرول روم) کو نقصان پہنچا، تاہم عملے کے تمام ارکان محفوظ رہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق یہ واقعہ جمعرات کو ایک مال بردار جہاز پر حملے کے بعد پیش آیا، جس کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔ حالیہ واقعات کے بعد بین الاقوامی بحری جہازوں کے تحفظ کے لیے قائم جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن سینٹر نے بحری سیکیورٹی خطرے کی سطح مزید بلند کر دی ہے۔
تنظیم کے مطابق حملے کے نتیجے میں کسی قسم کے ماحولیاتی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ یو کے ایم ٹی او برطانیہ کا فوجی ادارہ ہے جو عالمی بحری راستوں کی نگرانی اور بحری سیکیورٹی سے متعلق اطلاعات جاری کرتا ہے۔
آبنائے ہرمز میں تازہ حملے کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر حالیہ حملوں اور گذشتہ دنوں سوئٹرز لینڈ میں طے پانے والے عبوری امن معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔
امریکا کا کہنا ہے کہ اس نے رات گئے ایرانی اہداف کو نشانہ بنایا، جب کہ ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے امریکی افواج سے منسلک اہداف پر جوابی حملے کیے۔ دونوں ممالک کا مؤقف ہے کہ دوسرا فریق عبوری معاہدے کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا ہے۔
سینٹ کام کے مطابق ایرانی افواج کی جانب سے تجارتی جہاز رانی پر بلااشتعال جارحیت جنگ بندی معاہدے کی واضح خلاف ورزی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ امریکی فوج خطے میں موجود ہے اور صورتِ حال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ ایران کے ساتھ ہونے والے معاہدے کی تمام شقوں پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔
تاہم، ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے رپورٹ کیا کہ پاسداران انقلاب نے ان بحری جہازوں کی جانب انتباہی فائرنگ کی جو ایران کی منظور شدہ بحری گزرگاہ استعمال نہیں کر رہے تھے۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد متعدد جہازوں نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ایرانی اجازت حاصل کرنا شروع کر دی، تاہم تہران نے کسی مخصوص تجارتی جہاز پر حملے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔
دوسری جانب بحرین نے اپنے علاقے پر ایرانی ڈرون حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے عبوری معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا، جب کہ ایرانی حکام نے الزام عائد کیا کہ امریکا لبنان میں جنگ بندی برقرار رکھنے کے وعدے پر عمل کرنے میں ناکام رہا، جس سے معاہدہ متاثر ہوا۔
ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے امریکی کارروائی پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایک بار پھر مذاکرات کے دوران ایران پر حملہ کیا۔
ان کے بقول، واشنگٹن نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ نہ جنگ بندی کا احترام کرتا ہے اور نہ ہی مذاکراتی اصولوں کا پابند ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے کی خلاف ورزی کا نتیجہ امریکا کے لیے پسپائی اور ندامت کی صورت میں نکلے گا۔
ادھر ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر محسن رضائی نے بھی کہا کہ مفاہمتی یادداشت کی کسی بھی خلاف ورزی کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکا نے جنگ بندی معاہدے کی مکمل پاسداری کی ہے اور اگر ایران کو معاہدے کے نفاذ پر کوئی اعتراض ہے تو اسے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ تشدد کا جواب تشدد سے دیا جائے گا۔