
امریکا، اسرائیل اور لبنان کے درمیان امن فریم ورک معاہدے پر دستخط کے بعد لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے سخت ردعمل دیتے ہوئے معاہدے اور اس سے متعلق پیش رفت کو مسترد کر دیا ہے۔
حزب اللہ کے رہنما اور لبنانی پارلیمان کے رکن حسن فضل اللہ نے کہا ہے کہ واشنگٹن میں ہونے والی پیش رفت دراصل اسلام آباد ٹریک کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے اور ان کی جماعت اس کے نتائج کو قبول نہیں کرے گی۔
حسن فضل اللہ نے اپنے بیان میں کہا کہ حزب اللہ لبنانی حکام کی جانب سے کیے جانے والے ہر اس اقدام کا بھرپور مقابلہ کرے گی جو تنظیم کے مؤقف کے خلاف ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ حزب اللہ اپنے ہتھیار پہلے سے بھی زیادہ مضبوطی سے تیار رکھے گی اور لبنانی حکام کو اپنے ان وعدوں پر عمل درآمد نہیں کرنے دے گی جنہیں تنظیم لبنان کے مفادات کے خلاف سمجھتی ہے۔
دوسری جانب امریکا، اسرائیل اور لبنان کے درمیان امن فریم ورک معاہدے پر دستخط کیے جا چکے ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ انہیں امید ہے یہ فریم ورک لبنان میں امن کے قیام اور خطے میں استحکام کے لیے مثبت پیش رفت ثابت ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ لبنان اور اسرائیل کے عوام ایک محفوظ اور پُرامن مستقبل میں زندگی گزار سکیں۔
لبنان کے سفیر نے بھی معاہدے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ فریم ورک لبنان کی خودمختاری کی بحالی کی جانب پہلا اہم قدم ہے اور اس سے ملک میں سیاسی و سیکیورٹی استحکام کے لیے نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔
تاہم حزب اللہ کے سخت مؤقف نے واضح کر دیا ہے کہ معاہدے پر داخلی سطح پر اتفاق رائے موجود نہیں، جس کے باعث اس فریم ورک پر عمل درآمد اور خطے میں دیرپا امن کے امکانات کو کئی سیاسی اور سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
واضح رہے کہ جمعے کو واشنگٹن میں لبنان، اسرائیل اور امریکا نے ایک سہ فریقی فریم ورک معاہدے پر دستخط کیے گئے، جس کا مقصد مشرقِ وسطیٰ کے دونوں دیرینہ حریف ممالک کے درمیان امن معاہدے کی راہ ہموار کرنا ہے۔ فی الحال معاہدے کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں تاہم اسے کئی دہائیوں کی کشیدگی اور حالیہ لڑائی کے خاتمے کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔