سیریک بندرگاہ پر حالیہ امریکی حملوں سے کوئی نقصان نہیں ہوا: ایرانی میڈیا کا دعویٰ

ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ رات کیے گئے امریکی حملوں میں ایران کی کسی بندرگاہ پر کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔

ایران کی ’مہر‘ نیوز ایجنسی نے مشرقی ہرمزگان کی بندرگاہوں کے سربراہ کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ امریکی فوج کی تازہ بمباری کے باوجود سریک بندرگاہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔

یہ امریکی حملہ ایک دن پہلے ایک مال بردار جہاز کو ایرانی ڈرون سے نشانہ بنائے جانے کے جواب میں کیا گیا تھا۔

ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ بندرگاہ کے علاقے میں دھماکوں کی آوازیں تو سنی گئیں، لیکن وہاں تمام کام معمول کے مطابق چل رہا ہے اور کسی بھی مشینری یا سامان کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

واضح رہے کہ 17 جون کو ہونے والے امن معاہدے کے بعد امریکا نے ایران کے اندر فوجی ٹھکانوں، ڈرون اور میزائلوں کے گوداموں اور ساحلی ریڈاروں پر پہلی بار فضائی حملے کیے ہیں۔

اس فوجی کارروائی پر شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے امریکا پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ امریکا نے ایک بار پھر مذاکرات کے دوران ہی ایران پر حملہ کر دیا ہے، جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن انتظامیہ سفارت کاری اور جنگ بندی کے فیصلوں کا کوئی احترام نہیں کرتی۔

انہوں نے امریکی صدر پر تنقید کرتے ہوئے مزید کہا کہ ناکام امریکی صدر نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ نہ تو بات چیت کے اصولوں کو مانتے ہیں اور نہ ہی جنگ بندی کا خیال رکھتے ہیں۔

ابراہیم عزیزی نے وارننگ دی کہ جنگ بندی کی یہ غیر ذمہ دارانہ خلاف ورزی ہمیشہ کی طرح خود امریکا کے لیے ہی پسپائی اور پشیمانی کا باعث بنے گی اور اب الزام تراشی کا کھیل مزید نہیں چلے گا۔

دوسری طرف ایران کی سب سے بڑی فوجی قوت یعنی پاسدارانِ انقلاب نے بھی امریکہ پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگایا ہے۔

ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ امن معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو کنٹرول کرنے کا پورا حق تہران حکومت کے پاس ہے۔

پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اپنے ملک کے جنوبی حصوں پر ہونے والے امریکی حملوں کے جواب میں ان کی بحری فوج نے پورے خطے میں قائم امریکی فوجی اڈوں اور ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔

امریکا نے اس سے قبل ایک ویڈیو بھی جاری کی تھی جس میں ایرانی مقامات پر بمباری کے مناظر دکھائے گئے تھے، جس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان ایک بار پھر جنگ کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles