
ایرانی پاسداران انقلاب قدس فورس کے سربراہ اسماعیل قانی نے اسرائیل کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کو لبنان کے تمام علاقوں سے نکلنا ہوگا، اگر اسرائیل خود نہیں نکلتا تو شکست سے دوچار ہو کر بھاگے گا۔ دوسری طرف اسرائیل کا کہنا ہے کہ لبنان کو حزب اللہ کو غیرمسلح کرنا ہوگا، اس کے بغیر فوج واپس نہیں بلائیں گے، نسل کش قوت کو سرحد پر نہیں چھوڑ سکتے۔
جمعرات کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں ایران کی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کی القدس فورس کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل اسماعیل قانی نے کہا کہ اسرائیلی یہ بات اچھی طرح جان لیں کہ ان کے خلاف کھڑے ہونے والے اور لڑنے والے افراد عاشورہ کے جذبے اور امام حسین کے عقیدے سے سرشار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مزاحمتی قوتیں اس ابدی عقیدے پر یقین رکھتی ہیں کہ ہر دن عاشورا ہے اور ہر سرزمین کربلا ہے۔
ایرانی پاسداران انقلاب قدس فورس کے سربراہ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ “صہیونیوں، تمہیں ہرصورت لبنان سے نکلنا ہوگا، یہ سرزمین مزاحمت اور ثابت قدمی کا میدان ہے، یہ قبضہ گروپوں کے لیے کوئی کھیل کا میدان نہیں ہے۔
اسماعیل قانی نے مزید کہا کہ اگر تم رضاکارانہ طور پر یہاں سے نہ نکلے تو کل تمہیں شکست ہوگی اور شرمندہ ہوکر یہاں سے دم دبا کر بھاگو گے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل پر لبنان میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں اور شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت میں لبنان میں جنگ کے خاتمے کی شق بھی شامل تھی۔
ادھر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ تنہا رہا جاسکتا ہے مگر سچ کا دامن نہیں چھوڑا جاسکتا، ہم نہ ظلم کریں اور نہ ہی ظلم سہیں، اسی طرح نہ ہی ظلم کے سامنے خاموشی اختیار کریں، امریکا اور اسرائیل نے جس جوابی کارروائی کا سوچا بھی نہ تھا ہماری افواج نے وہ کر دکھایا، ایران کو دنیا بھر میں ایک طاقتور اور باوقار قوم کے طور پر تسلیم کیا جارہا ہے۔
مسعود پزشکیان نے کہا کہ ہمارے دشمنوں کا خیال تھا کہ وہ محض تین دنوں کے اندر اسلامی جمہوریہ ایران کا خاتمہ کردیں گے اور یہاں اپنے کٹھ پتلی حکمران بٹھادیں گے لیکن ہماری بہادر افواج نے وہ معرکہ خلق کیا جس کا دشمن کبھی اندازہ بھی نہیں لگا سکتا تھا۔
لبنان کو حزب اللہ کو غیرمسلح کرنا ہوگا: اسرائیل
دوسری جانب اسرائیلی حکومت کے ترجمان ڈیوڈ مینسر نے کہا کہ حزب اللہ کو غیرمسلح کیے بغیر لبنان سے فوج کو واپس نہیں بلایا جائے گا، لبنان سے تمام مسائل پر براہ راست مذاکرات جاری ہیں اور حزب اللہ کو غیر مسلح ہونا ہوگا، یہ نہیں ہوسکتا کہ نسل کشی کرنے والی کوئی بھی قوت اسرائیلی سرحد کے قریب موجود رہے اور ہم خاموش بیٹھے رہیں، حزب اللہ کو تو 2024 کی جنگ بندی کے بعد غیرمسلح کرنا تھا لیکن لبنان ایسا کرنے میں ناکام رہا، حزب اللہ کو غیرمسلح کرنا ہوگا اس کے بعد ہی اسرائیل جنوبی لبنان سے واپس جائے گا۔
ادھر اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ لبنان سے پائلٹ منصوبے پر بات چیت جاری ہے، جس کے تحت جنوبی لبنان کے بعض علاقوں کا کنٹرول لبنانی مسلح افواج کو دیا جائے گا، ان فوجیوں کو امریکا تربیت دے گا، تعینات لبنانی فوجیوں کو جانچ کے عمل سے گزارا جائے گا تاکہ یقینی بنایا جائے کہ تعینات کیےجانے والے لبنانی فوجیوں کا حزب اللہ سے تعلق نہیں۔
واضح رہے کہ اسرائیل نے جنوبی لبنان میں کئی کلو میٹرز تک بفرزون بنانے کا اعلان کیا ہے اور اسرائیلی حکام کے مطابق اس منصوبے کے باوجود اسرائیلی فوج جنوبی لبنان کے بفرزون میں رہے گی۔