ایران جوہری تنصیبات کے اعلیٰ ترین معائنے پر مکمل راضی ہو گیا: صدر ٹرمپ کا دعویٰ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران جوہری تنصیبات کے اعلیٰ ترین معائنے پر مکمل راضی ہو گیا، ایران اس پر راضی نہ ہوتا، تو آگے مذاکرات نہ ہوتے، ایران کی بڑی رعایتوں پر آبنائے ہرمز کو کھولنے کی اجازت دی، ہمارے جہاز دوبارہ ناکہ بندی کے لیے تیار ہیں۔

منگل کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے مستقبل میں اعلیٰ ترین سطح کے جوہری معائنوں پر مکمل طور پر اتفاق کر لیا ہے، جس سے ”جوہری شفافیت“ کو یقینی بنایا جا سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران اس شرط پر رضامند نہ ہوتا تو دونوں ممالک کے درمیان مزید مذاکرات جاری نہ رہتے۔

صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی جانب سے دیگر اہم رعایتوں کے بعد انہوں نے آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے اور بحری ناکہ بندی نہ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ تمام بحری جہاز اپنی پوزیشن پر موجود رہیں گے تاکہ ضرورت پڑنے پر دوبارہ ناکہ بندی نافذ کی جا سکے تاہم موجودہ صورت حال میں ایسا ہونے کا امکان بہت کم دکھائی دیتا ہے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری کیے جانے والے فنڈز یا پابندیوں میں نرمی کے تحت دستیاب رقم امریکی کنٹرول میں موجود ایسکرو اکاؤنٹس میں رکھی جائے گی۔

صدر ٹرمپ کے مطابق یہ فنڈز صرف امریکا سے خوراک اور طبی سامان کی خریداری کے لیے استعمال کیے جائیں گے، جن میں مکئی، گندم اور سویابین بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو ان اشیا کی فوری ضرورت ہے اور وہاں انسانی بحران کے پیش نظر امداد فراہم کرنا ضروری ہے۔

اپنے بیان کے اختتام پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات مثبت انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔

اپنے ایک اور بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزشتہ روز ایک کروڑ 9 لاکھ بیرل تیل نکلا جو ایک نیا ریکارڈ ہے، تیل کی قیمتیں نیچے آرہی ہیں اور دنیا اب پہلے سے زیادہ محفوظ ہوگئی ہے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے دونوں جانب سے مختلف دعوے کیے جا رہے ہیں۔ یہ مذاکرات گزشتہ ہفتے سوئٹزرلینڈ میں شروع ہوئے تھے۔

پیر کے روز امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا تھا کہ ایران کی جانب سے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے معائنہ کاروں کو ملک میں داخلے کی اجازت دینے پر آمادگی ایک ”اہم سنگ میل“ ہے تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا تھا کہ معائنہ کاروں کو کس نوعیت کی رسائی حاصل ہوگی۔

بعد ازاں تہران نے کہا تھا کہ اقوام متحدہ کے جوہری نگراں ادارے کے ساتھ ایران کا تعاون موجودہ طریقہ کار کے تحت جاری رہے گا اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles