
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل کو اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بناتے ہوئے امریکی فوجی اسلحے پر انحصار کم کرنا ہوگا اور اپنے ہتھیاروں کا نظام خود تیار کرنا ہوگا۔
اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری کی گئی ایک ویڈیو کے مطابق نیتن یاہو نے گزشتہ ہفتے فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنے امریکی دوستوں کی جانب سے ملنے والی حمایت کو بہت سراہتا ہوں، لیکن ہمیں دوسروں پر انحصار سے آزاد ہونا ہوگا اور اپنا خودمختار اسلحہ سازی کا نظام قائم کرنا ہوگا۔
نیتن یاہو کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل کو جنوبی لبنان میں اپنی فوجی کارروائیوں کے حوالے سے امریکا کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق واشنگٹن اسرائیل سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ جنوبی لبنان میں حملوں کو محدود کرے اور کشیدگی میں مزید اضافے سے گریز کرے۔
اسرائیل اور لبنان کے درمیان سرحدی علاقوں میں کشیدگی مسلسل برقرار ہے، جبکہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان کے بعض علاقوں میں موجود ہے۔
نیتن یاہو نے اس حوالے سے اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں اپنی موجودگی برقرار رکھے گی اور حزب اللہ کے انفراسٹرکچر کو تباہ کرنے کا عمل جاری رکھے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم جنوبی لبنان میں اپنی پوزیشن برقرار رکھیں گے اور حزب اللہ کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کریں گے۔
خیال رہے کہ اس سے قبل اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے بھی اعلان کیا تھا کہ جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں قائم سیکیورٹی زون سے واپس نہیں بلائی جائے گی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج شمالی اسرائیل کے تحفظ کے لیے اپنی موجودہ پوزیشنوں پر برقرار رہے گی اور ضرورت پڑنے پر لبنان میں کارروائیاں جاری رکھے گی۔
اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا تھا اسرائیلی افواج لبنان میں یلو لائن کے ساتھ قائم سیکیورٹی زون میں تعینات رہیں گی اور وہاں سے دہشت گردوں اور ان کے انفراسٹرکچر کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں گی۔ ان کے بقول حالیہ جنگ بندی کے اعلان کے بعد بھی اسرائیلی فوج اپنی تمام موجودہ پوزیشنوں پر برقرار رہے گی تاکہ شمالی اسرائیل کی بستیوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔