
ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران جاری کردہ فنڈز کو مکمل آزادی کے ساتھ استعمال کرنے کا حق رکھتا ہے۔ جوہری پروگرام کے حوالے سے بین الاقوامی معائنوں کا فی الحال کوئی واضح شیڈول موجود نہیں اور ایرانی حکام کا جوہری تنصیبات پر معائنہ کاروں کو لے جانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
ہفتہ وار نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے کہا کہ عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے جوہری معائنوں کے حوالے سے کوئی واضح ٹائم فریم طے نہیں کیا گیا۔ انہوں نے اس تاثر کی بھی تردید کی کہ سوئٹزرلینڈ میں موجود ایرانی وفد نے آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی سے کوئی ملاقات کی ہے۔
ایرانی ترجمان نے حالیہ جنگی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کے خلاف ایران کا ردعمل استقامت، وقار اور فخر کی ایک داستان ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران نے ہر مرحلے پر اپنی خودمختاری، قومی سلامتی اور دفاعی مفادات کو ترجیح دی اور کسی بھی دباؤ کے باوجود اپنے بنیادی قومی اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔
اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ ایرانی حکام اس وقت بین الاقوامی معائنہ کاروں کو جوہری مقامات کا دورہ کرانے کا ارادہ نہیں رکھتے۔
ان کے مطابق ایران اپنی قومی سلامتی اور حساس تنصیبات کے تحفظ کو اولین ترجیح دیتا ہے اور اسی تناظر میں مستقبل کے فیصلے کیے جائیں گے۔
منجمد ایرانی اثاثوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ایران اپنے جاری یا بحال کیے گئے منجمد اثاثوں کو اپنی ضروریات اور ترجیحات کے مطابق خرچ کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایران ان فنڈز کو مکمل آزادی کے ساتھ استعمال کرنے کا حق رکھتا ہے اور اس حوالے سے کسی قسم کی بیرونی پابندی یا شرط قبول نہیں کی جائے گی۔
اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ ایران کو ان فنڈز کی منتقلی کے سلسلے میں کسی نئی پابندی کا سامنا نہیں اور بحال شدہ اثاثوں سے امریکی مصنوعات کی خریداری پر بھی کوئی پابندی موجود نہیں ہے۔ انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ ان فنڈز کے استعمال کو کسی مخصوص مقصد یا خریداری سے مشروط کیا جا سکتا ہے۔
ایرانی ترجمان نے مزید کہا کہ حالیہ تنازعات اور جنگی دباؤ کے پس منظر میں ایران اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ بعض قوتوں کا اصل مقصد ایران کی تہذیبی، تاریخی اور قومی شناخت کو کمزور کرنا تھا، تاہم ایرانی قوم نے اتحاد اور مزاحمت کے ذریعے ان مقاصد کو ناکام بنایا۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران اپنی خودمختاری، قومی مفادات اور اقتصادی حقوق کے تحفظ کے لیے آئندہ بھی اسی پالیسی پر عمل پیرا رہے گا اور کسی بھی بین الاقوامی معاملے میں اپنے قومی مفادات کو مقدم رکھے گا۔