امریکا نے ایران کا بحری محاصرہ ختم کر دیا؛ ایرانی جہاز لاکھوں بیرل خام تیل لے کر روانہ

امریکا نے ایران کا بحری محاصرہ ختم کر دیا ہے اور اس بات کی تصدیق ایرانی حکومت لی جانب سے بھی کردی گئی ہے۔ جس کے بعد لاکھوں بیرل خام تیل لے کر ایرانی ٹینکرز سمندر میں روانہ ہو چکے ہیں۔

ایران کے نائب وزیرِ خارجہ ماجد تخت روانچی نے اپنے ایک بیان میں بحری محاصرہ ختم ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایرانی بندرگاہوں پر بٹھایا گیا اپنا پہرہ مکمل طور پر ہٹا لیا ہے۔

بحری جہازوں کی آمدورفت پر نظر رکھنے والے ادارے ’ٹینکرز ٹریکر‘ نے بھی بتایا ہے کہ تقریباً بیس لاکھ بیرل ایرانی خام تیل سے لدا ہوا ایک بہت بڑا دیو ہیکل ٹینکر امریکی ممنوعہ بحری لائن کو کامیابی سے پار کر چکا ہے، جبکہ ایران کے درجنوں دیگر بحری جہاز بھی اب بندرگاہوں سے نکل کر اس علاقے کی طرف تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق پچھلے دو مہینوں میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ تقریباً پچاس لاکھ بیرل خام تیل لے کر کم از کم تین ایرانی ٹینکرز آبنائے ہرمز میں امریکی بحریہ کے محاصرے سے باہر نکلے ہیں۔

سمندری ڈیٹا فراہم کرنے والے ادارے ’کے پی ایل ای آر‘ کے مطابق، ڈیونا اور ہیرو ٹو نامی دو بڑے ٹینکرز، جو ایرانی قومی کمپنی کی ملکیت ہیں اور جن پر امریکی پابندیاں بھی لگی ہوئی ہیں، امریکی بحریہ کے گھیرے کو توڑ کر باہر نکلنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

ان دونوں جہازوں پر مجموعی طور پر اڑتیس لاکھ بیرل ایرانی خام تیل لدا ہوا ہے، جبکہ ایک تیسرا جہاز بھی دس لاکھ بیرل تیل لے کر بدھ کے دن اس محاصرے کی لائن سے باہر نکل آیا ہے۔

اس صورتحال پر سمندری معاملات کی ماہر مشیل ویز بوک مین نے امریکی نشریاتی ادارے ’سی این بی سی‘ سے گفتگو میں کہا ہے کہ ان جہازوں کا محاصرے سے باہر نکلنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے دوسرے ٹینکرز بھی دوبارہ اپنا کام شروع کرنے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ امریکا اور ایران نے پیر کے روز تقریباً چار ماہ سے جاری جنگ کو ختم کرنے کے لیے ایک ابتدائی معاہدے پر دستخط کیے تھے، اور اب جمعہ کے دن سوئٹزرلینڈ میں اس کی اصل اور باقاعدہ تقریب ہوگی۔

اس معاہدے کی تمام تفصیلات تو ابھی سامنے نہیں آئیں لیکن امید ہے کہ اس سے آبنائے ہرمز کا راستہ کھل جائے گا اور ایران کے تیل بیچنے پر لگی پابندیاں بھی ہٹ جائیں گی۔

ایک مشہور امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق واشنگٹن اس ہفتے معاہدے پر دستخط ہوتے ہی تہران کو فوری طور پر تیل اور ایندھن بیچنے کی اجازت دے دے گا اور اس کے بدلے میں ایران اپنے ایٹمی پروگرام کو روکنے کا پکا وعدہ کرے گا۔

سمندری تجارت سے جڑے لوگ اس خوشخبری پر جشن منانے کے بجائے ابھی تک حیرت اور شک کا اظہار کر رہے ہیں۔

لائڈز لسٹ انٹیلی جنس نامی ادارے کا کہنا ہے کہ سمندری شعبہ اس خبر کو جشن کے بجائے ایک ڈر اور بے یقینی کے ساتھ دیکھ رہا ہے۔

پچھلے کئی مہینوں سے جہازوں کے مالکان کرایوں اور جنگ کے بیمہ کی بھاری قیمتوں سے بہت پریشان تھے، اس لیے کچھ مالکان نے تو تیل کی مانگ بڑھنے کی امید پر اپنے جہاز خلیج کی بندرگاہوں کی طرف بھیجنا شروع کر دیے ہیں، لیکن زیادہ تر مالکان اب بھی بہت محتاط ہیں اور پیچھے ہٹے ہوئے ہیں۔

انشورنس کمپنیاں اب بھی جنگ کے خطرے کا بھاری ٹیکس مانگ رہی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ جب تک ٹھوس ثبوت نہیں ملتا کہ یہ سمندری راستہ اب بالکل محفوظ ہے، وہ قیمتیں کم نہیں کریں گی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ جنگ رکنے سے پھنسے ہوئے سیلرز آزاد ہو جائیں گے اور مارکیٹ کو فائدہ ہوگا، لیکن یہ شعبہ اسے مستقل امن کے بجائے صرف کچھ وقت کا سکون دیکھ رہا ہے۔

دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ویڈیو بیان میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز ساٹھ دنوں کے بعد بھی ہر قسم کے ٹیکس سے بالکل پاک رہے گی اور جہاز یہاں سے مفت گزریں گے۔

صدر ٹرمپ کے اس بیان کے بعد کچھ بہت بڑے جہازوں کے مالکان سب سے پہلے فائدہ اٹھانے کے لیے اپنے ٹینکرز مشرقِ وسطیٰ کی طرف لا رہے ہیں جبکہ باقی اب بھی انتظار کی پالیسی پر عمل کر رہے ہیں۔

بدھ کے روز معلوم ہوا ہے کہ درجنوں بڑے جہاز چین کے سمندر اور بحرِ ہند کو پار کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات کی بندرگاہوں کی طرف بڑھ رہے ہیں، جہاں پہلے ہی کم از کم تیس جہاز لنگر گرائے کھڑے ہیں۔

آزاد ٹینکرز کی تنظیم کے مینیجنگ ڈائریکٹر ٹم ولکنز نے بتایا ہے کہ فی الحال اس راستے سے جہازوں کا گزرنا بہت کم ہوگا کیونکہ جمعہ کو معاہدے پر دستخط ہونے تک دونوں طرف کی پابندیاں لاگو ہیں، اور امریکی بحریہ نے بھی کمپنیوں کو یاد دلایا ہے کہ جب تک دستخط نہیں ہو جاتے تب تک کچھ بھی تبدیل نہیں ہوا ہے۔

ماہرین کا اندازہ ہے کہ معاہدے پر دستخط ہونے کے پندرہ دنوں کے اندر اندر ایک سو اٹھارہ ٹینکرز اس علاقے سے نکل سکتے ہیں، لیکن جہازوں کا یہ ہجوم صرف ایک بار ہی دیکھنے کو ملے گا نہ کہ یہ مستقل کا معمول بنے گا۔

ایک بڑے بحری تجزیہ کار نیلز راسموسن نے اس صورتحال کو واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ زیادہ تر جہازوں کے مالکان آبنائے ہرمز سے گزرنے کا نیا پلان بنانے سے پہلے مزید تفصیلات کا بڑی احتیاط سے انتظار کر رہے ہیں، اور وہ اپنے جہازوں کو اس راستے پر بھیجنے سے پہلے اس بات کا پکا یقین کرنا چاہتے ہیں کہ وہاں سے گزرنے کی نہ صرف اجازت ہے بلکہ وہ راستہ اب جان اور مال کے لیے بالکل محفوظ بھی ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles