
امریکہ سے یو ایف او یعنی اڑتی ہوئی نامعلوم چیزوں کے بارے میں کچھ ایسی خفیہ سرکاری دستاویزات منظر عام پر آئی ہیں جنہوں نے سب کو حیران کر دیا ہے۔
ان دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کے ایجنٹوں کا خود ایک ایسی جگہ پر چمکتے ہوئے جادوئی گولوں سے سامنا ہوا ہے جو برسوں سے مقامی لوگوں کے لیے ایک بڑا معمہ بنے ہوئے ہیں۔ یہ چمکدار روشنیاں امریکہ کے شمال مشرقی علاقے میں واقع ایک سنسان تالاب کے پاس بار بار دیکھی جا رہی ہیں، لیکن ان روشنیوں کی اصل حقیقت آج تک سامنے نہیں آ سکی۔
عام طور پر اڑتی ہوئی نامعلوم چیزوں کی خبروں پر تحقیق کرنا اس لیے مشکل ہوتا ہے کیونکہ وہ صرف ایک بار دکھائی دیتی ہیں اور غائب ہو جاتی ہیں۔ لیکن امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کی طرف سے جاری کی جانے والی ان تازہ ترین دستاویزات کے مطابق یہ روشنیاں ایک ہی جگہ پر بار بار واپس آ رہی تھیں۔اس وجہ سے حکام کو ویڈیوز بنانے، گواہوں سے بات کرنے اور خود اپنی آنکھوں سے ان پراسرار روشنیوں کا مشاہدہ کرنے کا موقع ملا۔
یہ دستاویزات صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس حکم کے بعد عوام کے سامنے لائی گئی ہیں جس میں انہوں نے یو ایف او سے جڑے تمام سرکاری ریکارڈ کو عام کرنے کا کہا تھا۔
دستاویزات کے مطابق یہ پراسرار مشاہدات پہلی بار 2021 میں رپورٹ ہوئے تھے اور اس کے بعد کئی سالوں تک اسی مقام پر بار بار دیکھے جاتے رہے۔ اس جگہ کا اصل نام تو خفیہ رکھا گیا ہے لیکن حکام بتاتے ہیں کہ یہ ایک الگ تھلگ تالاب ہے۔
معاملہ اس وقت تحقیقاتی اداروں کی توجہ کا مرکز بنا جب وہاں کے ایک رہائشی نے ایف بی آئی کو بار بار روشنیاں دیکھنے کی اطلاع دی اور کچھ ویڈیوز بھی دکھائیں تو حکام کی توجہ اس طرف گئی۔ شروع کی ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ ایک بڑا چمکدار گولا فضاء میں اڑتے ہوئے اچانک کئی حصوں میں بٹ گیا اور پھر غائب ہو گیا۔
رہائشی کا کہنا تھا کہ یہ چیزیں کبھی کبھی ان کے گھر سے محض دو سو گز کی دوری پر آ جاتی تھیں اور درختوں کے اوپر یا پانی کے ارد گرد گھومتی رہتی تھیں۔
تحقیقات نے ایک نیا رخ اس وقت اختیار کیا جب 2024 کے آخر میں ایف بی آئی کے اہلکار خود اس جگہ کا معائنہ کرنے پہنچے۔ اہلکاروں نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ انہوں نے خود ایک سفید روشنی دیکھی جو تقریباً دس سیکنڈ تک ادھر ادھر حرکت کرتی رہی اور پھر غائب ہو گئی۔ اس کے بعد درختوں کے اوپر سرخ اور سفید رنگ کی روشنیاں عجیب و غریب انداز میں چمکیں اور لمحوں میں نظروں سے اوجھل ہو گئیں۔
ایک اور غیرمعمولی واقعے میں اہلکاروں نے تالاب کے دوسرے کنارے پر ایک سرخ روشنی کے اوپر ایک چمکتی ہوئی سفید روشنی دیکھی۔ رپورٹ کے مطابق دونوں اشیا کچھ دیر تک معلق رہیں، پھر تیزی سے حرکت کرتے ہوئے غائب ہو گئیں۔
اہلکاروں نے ان چیزوں کی تصویریں بھی بنائیں اور وہاں کے رہائشی کی فراہم کردہ ویڈیوز کا بھی جائزہ لیا۔ انہوں نے ڈرون یا کسی دھوکہ دہی کے پہلو پر بھی غور کیا لیکن وہ کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔
ان فائلوں میں سرخ رنگ کے اڑتے ہوئے گولوں کا بھی ذکر ہے جن کا مرکز بالکل سفید اور چمکدار تھا۔ ایک گواہ نے اس کا منظر بیان کرتے ہوئے بتایا کہ وہ لال رنگ اتنا شاندار اور خوبصورت تھا کہ انہوں نے اپنی زندگی میں کبھی اس طرح کا لال رنگ نہیں دیکھا تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس لال گولے کے ساتھ ایک اور گولا آ ملا اور پھر دونوں دور چلے گئے۔
ان تمام ویڈیوز اور بیانات کے باوجود امریکی حکام اب بھی ان روشنیوں کی اصل حقیقت معلوم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اس علاقے کے آس پاس کوئی فوجی اڈہ یا خفیہ تجربہ گاہ بھی نہیں ہے جو اس معمے کو حل کر سکے۔
حالیہ ریلیز میں ایف بی آئی، سی آئی اے اور پینٹاگون کی مجموعی طور پر 72 فائلیں شامل ہیں۔ پینٹاگون کے سربراہ پیٹ ہیگستھ نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ان فائلوں کو خفیہ رکھ کر طویل عرصے سے طرح طرح کی افواہوں کو فروغ دیا جا رہا تھا اور اب وقت آ گیا ہے کہ امریکہ کے عوام اسے خود اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔
جہاں ایک طرف یہ راز اب بھی برقرار ہے، وہیں یہ فائلیں یہ ضرور دکھاتی ہیں کہ سرکاری ادارے ان پراسرار چیزوں کی تفتیش کس طرح کرتے ہیں۔
فی الحال یہ پراسرار روشنیاں ایک معمہ بنی ہوئی ہیں اور ان کی اصل حقیقت جاننے کے لیے تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے۔