ایران کا حالیہ جنگ میں 210 امریکی و اسرائیلی طیارے تباہ کرنے کا دعویٰ

ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے حالیہ امریکا-اسرائیل جنگ کے دوران 210 سے زائد دشمن طیارے تباہ کیے جب کہ جدید اسٹیلتھ جنگی طیاروں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت بھی حاصل کرلی ہے۔

ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے فارس نیوز ایجنسی کے مطابق منگل کو جاری ایک بیان میں ایران کے قائم مقام وزیر دفاع بریگیڈیئر جنرل سید ماجد ابن الرضا نے کہا ہے کہ حالیہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے دوران ایران نے دفاعی صلاحیتوں میں نمایاں پیش رفت کی اور دشمن کے 210 سے زائد طیارے تباہ کیے۔

ایرانی قائم مقام وزیر دفاع نے کہا کہ ایران نے جنگ کے دوران نئی حکمت عملیوں اور جدید تکنیکی طریقوں کا استعمال کیا جو ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ مؤثر ثابت ہوئے۔

بریگیڈیئر جنرل ماجد ابن الرضا کے مطابق 12 روزہ جنگ کے دوران دشمن کے 5 سے کم طیاروں کو نشانہ بنایا گیا تھا تاہم حالیہ جنگ میں ایران نے ایسی ٹیکنالوجی حاصل کرلی، جس کے ذریعے تقریباً 210 دشمن طیاروں کو نشانہ بنایا گیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ دشمن نے خود اعتراف کیا کہ ایران نے صرف اسی شعبے میں 7 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان پہنچایا۔

ایرانی قائم مقام وزیر دفاع نے مزید کہا کہ دشمن کے اسٹیلتھ جنگی طیاروں کا مقابلہ کرنا رمضان جنگ کے آغاز ہی سے ایرانی دفاعی صنعت کے ماہرین کی ترجیحات میں شامل تھا۔ ان کے مطابق 10 دن سے بھی کم عرصے میں ایسی ٹیکنالوجی حاصل کرلی گئی، جس سے ایف-35 سمیت جدید جنگی طیاروں کو شدید نقصان پہنچایا جا سکتا ہے۔

بریگیڈیئر جنرل ماجد ابن الرضا نے کہا کہ ایران کی دفاعی کارروائیاں اس سطح تک پہنچ گئیں کہ جدید ڈرونز اور دشمن کے دیگر طیاروں کو مار گرانا روزانہ کی کارروائی بن گیا تھا۔

یاد رہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھی، جس کے جواب میں تہران نے جوابی کارروائیاں کیں اور آبنائے ہرمز میں عالمی تیل و گیس کی ترسیل متاثر ہوئی۔

بعد ازاں 8 اپریل کو پاکستانی ثالثی میں ایران اور امریکا کے درمیان اہم مذاکرات اسلام آباد میں ہوئے تھے، جن میں ایرانی وفد کی قیادت محمد باقر قالیباف کر رہے تھے جب کہ وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی ان کے ہمراہ تھے۔ امریکی وفد کی قیادت اس وقت جے ڈی وینس نے کی تھی تاہم یہ مذاکرات کسی حتمی پیش رفت کے بغیر ختم ہو گئے تھے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles