سعودی عرب کا ٹرمپ کو دوٹوک جواب، ‘ابراہم معاہدہ’ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام سے مشروط

سعودی عرب نے واضح کیا ہے کہ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ سی این این کے مطابق سعودی حکام نے ابراہمی معاہدے سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطالبے کو رد کر دیا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ اور ’العریبیہ‘ کے مطابق سعودی حکام نے واضح کیا ہے کہ جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے ناقابلِ واپسی اور واضح اقدامات نہیں کیے جاتے، سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر نہیں لائے گا۔

سعودی ذرائع نے ’سی این این‘ کو بتایا کہ ریاض کا مؤقف تبدیل نہیں ہوا اور اسرائیل کو تسلیم کرنے کا معاملہ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام سے مشروط ہے۔ ’سی این این‘ کے مطابق بعض علاقائی ممالک ابراہمی معاہدوں میں شمولیت پر غور کر سکتے ہیں، تاہم غزہ، مغربی کنارے اور لبنان میں اسرائیلی اقدامات سے متعلق شرائط بھی سامنے آ سکتی ہیں۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ کے ممالک پر زور دیا کہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے بعد وہ ابراہم معاہدوں میں شامل ہوں۔

رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ سوشل میڈیا پوسٹ میں مسلم اور عرب ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ ابراہمی معاہدوں میں شامل ہوں اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کریں۔

عالمی امور کے مشرقِ وسطیٰ کونسل سے وابستہ ماہر راشد المہندی کا کہنا ہے کہ ابراہم معاہدوں نے اسرائیل اور خلیجی عرب ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو بہتر بنایا، لیکن فلسطینی ریاست کے مسئلے کا کوئی حل پیش نہیں کیا۔

’سی این این‘ سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ معاہدوں کا ایک مقصد مغربی کنارے کے الحاق کو روکنا تھا، مگر زمینی صورتِ حال اس کے برعکس دکھائی دے رہی ہے اور مغربی کنارے میں اسرائیلی اقدامات جاری ہیں۔

امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق صدر ٹرمپ نے ہفتے کو علاقائی رہنماؤں کے ساتھ گفتگو میں ابراہم معاہدوں کا ذکر کیا تھا، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ علاقائی قیادت نے اس پر فوری ردعمل نہیں دیا۔

علاقائی ذرائع کے مطابق بعض ممالک ابراہم معاہدوں میں شمولیت پر آمادہ ہو سکتے ہیں، تاہم اس کے لیے غزہ، مغربی کنارے اور لبنان میں اسرائیلی اقدامات سے متعلق شرائط عائد کی جا سکتی ہیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles