چاند پر نظریں: 2030 مشن کے لیے چینی خلا بازوں نے خلا میں ڈیرہ ڈال لیا

چین نے اپنے خلائی پروگرام میں ایک اور اہم پیش رفت کرتے ہوئے تین خلا بازوں کو اپنے خلائی اسٹیشن ”تیانگونگ“ بھیج دیا ہے۔ اس مشن کی خاص بات یہ ہے کہ ان میں سے ایک خلا باز ایک سال تک خلا میں قیام کرے گا، جو چین کی تاریخ کا سب سے طویل انسانی خلائی مشن ہوگا۔

اس اقدام کو چین کے 2030 تک انسان کو چاند پر اتارنے کے منصوبے کی تیاری کا اہم حصہ سمجھا جا رہا ہے۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق شین ژو-23 نامی خلائی جہاز اتوار کی رات شمال مغربی چین کے جیوچوان سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے لانگ مارچ-2 ایف راکٹ کے ذریعے روانہ کیا گیا۔ اس مشن میں کمانڈر ژو یانگ ژو، پائلٹ ژانگ یوآن ژی اور پے لوڈ اسپیشلسٹ لی جیا ینگ شامل ہیں۔ لی جیا ینگ پہلے ہانگ کانگ پولیس افسر رہ چکے ہیں اور وہ کسی چینی خلائی مشن میں حصہ لینے والے ہانگ کانگ کے پہلے خلا باز بن گئے ہیں۔

چینی خلائی ادارے کے مطابق تینوں میں سے ایک خلا باز ایک سال تک تیانگونگ خلائی اسٹیشن میں رہے گا، تاہم یہ فیصلہ بعد میں کیا جائے گا کہ طویل مدت تک خلا میں کون قیام کرے گا۔ اس مشن کا مقصد خلا میں انسانی جسم پر پڑنے والے طویل مدتی اثرات کا مطالعہ کرنا ہے، جن میں ہڈیوں کی کمزوری، تابکاری کے اثرات اور ذہنی دباؤ شامل ہیں۔

چین گزشتہ چند برسوں سے اپنے خلائی پروگرام کو تیزی سے وسعت دے رہا ہے۔ 2021 سے اب تک کئی مشنز کے ذریعے خلا بازوں کو چھ ماہ کے قیام کے لیے تیانگونگ بھیجا جا چکا ہے۔ لیکن اس بار کا مشن اس لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ دنیا میں چاند تک رسائی کی نئی دوڑ تیز ہو چکی ہے، جس میں چین اور امریکا دونوں آگے بڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

امریکا کی خلائی ایجنسی ناسا 2028 تک انسان کو دوبارہ چاند پر بھیجنے کا ارادہ رکھتی ہے، جبکہ چین نے 2030 تک اپنا ہدف مقرر کیا ہے۔ امریکا مستقبل میں مریخ تک انسانی مشنز کی تیاری کے لیے چاند پر مستقل موجودگی قائم کرنا چاہتا ہے۔ دوسری جانب چین روس کے تعاون سے 2035 تک چاند پر مستقل اڈہ بنانے کا منصوبہ رکھتا ہے۔

چین پر بعض امریکی حکام کی جانب سے یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ وہ چاند کے وسائل اور زمین پر قبضے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، تاہم بیجنگ ان دعوؤں کو مسترد کرتا آیا ہے۔

رواں سال اپریل میں ناسا کے چار خلا باز آرٹیمس ٹو مشن کے تحت چاند کے گرد تاریخی سفر کر چکے ہیں۔ اسی دوران ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس نے اپنی نئی اسٹارشپ راکٹ کا بغیر انسان کے کامیاب تجربہ بھی کیا، جسے مستقبل میں چاند اور مریخ کے مشنز کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

چین کے لیے اگلے چار سال انتہائی اہم سمجھے جا رہے ہیں کیونکہ اسے چاند پر انسانی مشن کے لیے نئی ٹیکنالوجی، راکٹ، لینڈر اور سافٹ ویئر مکمل طور پر تیار کرنا ہیں۔ اسی مقصد کے تحت حالیہ مہینوں میں لانگ مارچ-10 راکٹ، مینگ ژو خلائی کیپسول اور لانیو قمری لینڈر کے حفاظتی تجربات بھی کیے گئے ہیں۔

شین ژو-23 مشن میں پہلی بار تیانگونگ کے مرکزی حصے کے ساتھ تیز رفتار خودکار ڈاکنگ کا تجربہ بھی کیا جائے گا، جسے مستقبل کے قمری مشن کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔ چین کا منصوبہ ہے کہ چاند کے مدار میں خودکار نظام کے ذریعے خلائی کیپسول اور لینڈر کو آپس میں جوڑا جائے۔

اس مشن کے دوران سائنسی تحقیق کا دائرہ بھی وسیع رکھا گیا ہے۔ چینی سرکاری میڈیا کے مطابق چین خلا میں انسانی ”مصنوعی ایمبریو“ پر دنیا کا پہلا تجربہ بھی کر رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے انسانی اسٹیم سیلز کے نمونے تیانگونگ بھیجے گئے ہیں تاکہ یہ جانا جا سکے کہ خلا میں طویل عرصے تک انسانی زندگی، افزائش اور بقا کس حد تک ممکن ہو سکتی ہے۔

چین اس سے پہلے صرف روبوٹس کے ذریعے چاند پر مشن بھیجتا رہا ہے، تاہم جون 2024 میں وہ چاند کے اُس حصے سے نمونے واپس لانے والا پہلا ملک بنا تھا جو زمین سے نظر نہیں آتا۔ ماہرین کے مطابق اگر چین 2030 سے پہلے انسان کو کامیابی سے چاند پر اتارنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ عالمی خلائی دوڑ میں ایک بڑی پیش رفت تصور کی جائے گی۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles