
امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی رابطوں میں بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں نئی تجاویز پر اتفاق ہونے کی اطلاعات ہیں۔ واشنگٹن ٹائمز کے مطابق دونوں ممالک آئندہ 24 گھنٹوں میں اہم اعلان کر سکتے ہیں۔ امریکی اخبار کے مطابق امن معاہدے کے مجوزہ مسودے کی منظوری میں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اہم سفارتی کردار ادا کیا ہے۔
امریکی اخبار ’واشنگٹن ٹائمز‘ کی رپورٹ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان تیار کیے گئے مجوزہ ڈرافٹ کو اہم شخصیات کی منظوری حاصل ہو گئی ہے، جس کے بعد معاہدے کو حتمی منظوری کے لیے دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت کو ارسال کر دیا گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، امریکی نمائندہ اسٹیو وٹکاف، جیرڈ کشنر اور ایرانی پارلیمنٹ اسپیکر محمد باقر قالیباف سمیت دیگر اہم شخصیات نے مجوزہ مسودے کی منظوری دے دی ہے۔
واشنگٹن ٹائمز کے مطابق امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں کے درمیان ہونے والی اس پیش رفت کے بعد آئندہ 24 گھنٹوں میں باضابطہ اعلان متوقع ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ معاہدے کے اعلان کے بعد خطے میں مختلف محاذوں پر جاری جنگ اور کشیدگی کے خاتمے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
واشنگٹن ٹائمز نے یہ بھی کہا ہے کہ پاکستان نے اس تمام سفارتی عمل میں اہم کردار ادا کیا، جب کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امریکا اور ایران کے درمیان اختلافات کم کرنے اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں مؤثر کردار نبھایا۔
قبل ازیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور ایران کے مذاکرات کار جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدے کو حتمی شکل دینے کے کافی قریب پہنچ چکے ہیں۔
امریکی نشریاتی ادارے کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ مجوزہ حتمی معاہدہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکے گا اور یہ بھی یقینی بنائے گا کہ ایران کے افزودہ یورینیم کو تسلی بخش انداز میں سنبھالا جائے۔
صدر ٹرمپ کا ہنا تھا کہ میں صرف ایسے معاہدے پر دستخط کروں گا جس میں ہمیں وہ سب کچھ حاصل ہو جو ہم چاہتے ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق تازہ تجاویزمیں آبنائے ہرمزکوکھولنا، بعض ایرانی اثاثے بحال کرنا اور مذاکرات جاری رکھنا شامل ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ معاہدہ حتمی شکل اختیار کر لیتا ہے تو یہ حالیہ مشرق وسطیٰ بحران میں ایک بڑی سفارتی پیش رفت تصور کی جائے گی۔