ایران سے ‘جنگ’ یا ‘ڈیل’ کا فیصلہ اتوار تک ہوجائے گا: صدر ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدے اور جنگ کے دوبارہ آغاز کے حوالے سے ’ففٹی ففٹی چانسز‘ ہیں، اتوار تک فیصلہ ہوجائے گا کہ وہ معاہدہ کریں گے یا پھر ایران کو تباہ کر کے رکھ دیں گے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی ویب سائٹ ایگزیوس سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی ٹیم کے ساتھ ایران سے موصول ہونے والی تازہ تجاویز پر غور کریں گے اور ممکنہ طور پر اتوار تک فیصلہ کر لیں گے کہ جنگ دوبارہ شروع کرنی ہے یا معاہدہ کرنا ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ دو میں سے ایک کام ضرور ہوگا، یا تو میں ایران پر اب تک کا سب سے بڑا حملہ کروں گا، یا پھر ہم ایک اچھے معاہدے پر دستخط کریں گے۔

رپورٹ کے مطابق ٹرمپ اپنی مذاکراتی ٹیم کے ساتھ مشاورت کر رہے ہیں تاکہ ایران کے تازہ ترین جواب کا جائزہ لیا جا سکے، جس میں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کے ساتھ نائب صدر جے ڈی وینس کے بھی شامل ہونے کی توقع ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی صدر اس معاملے پر خلیجی ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ ایک کانفرنس کال بھی کریں گے جس میں مصر، اردن اور ترکیہ کے رہنماؤں کی شرکت متوقع ہے۔

ایگزیوس کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جو نیا مسودہ زیرِ غور ہے وہ پاکستان کی قیادت میں ہونے والی حالیہ بات چیت کا نتیجہ ہے۔

ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق دونوں فریق ایک ’میمورنڈم آف انڈر اسٹینڈنگ‘ کے آخری مرحلے میں ہیں جس کا مقصد جنگ کا خاتمہ ہے۔ اس مجوزہ فریم ورک میں آبنائے ہرمز کو بتدریج کھولنے، امریکی ناکہ بندی کے خاتمے اور منجمد ایرانی فنڈز کی واپسی جیسے نکات شامل ہیں، جبکہ بعد میں 30 سے 60 دن کی مزید تفصیلی مذاکراتی مدت بھی رکھی جائے گی۔

ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی معاہدے میں یورینیم افزودگی اور ایران کے موجودہ ذخائر جیسے حساس معاملات شامل ہونے چاہئیں، تاہم ماہرین کے مطابق یہ نکات ابتدائی معاہدے میں مکمل طور پر حل ہونا مشکل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق علاقائی سطح پر قطر، مصر، ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان گزشتہ 24 گھنٹوں سے مسلسل رابطوں میں ہیں تاکہ دونوں فریقوں کے درمیان اختلافات کو کم کرنے کی کوشش کی جاسکے۔

امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے بھی کہا ہے کہ مذاکرات میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے اور ممکن ہے کہ جلد اہم اعلان سامنے آئے، تاہم انہوں نے زور دیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولا جانا ضروری ہے۔

رپورٹ کے مطابق دونوں فریقوں کے درمیان بنیادی اختلافات اب بھی برقرار ہیں، خصوصاً جوہری پروگرام اور اسٹریٹ آف ہرمز کے معاملے پر، جنہیں مکمل طور پر حل کیے بغیر کسی بھی جامع امن معاہدے تک پہنچنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles