
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ثالثی میں تہران سنجیدگی سے مذاکرات میں شریک ہے، لیکن امریکا کے ضرورت سے زیادہ مطالبات بڑی رکاوٹ امن معاہدے میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات پر تبادلہ خیال کیا۔
ایرانی وزیرِ خارجہ نے امریکی رویے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات میں پوری سنجیدگی سے شریک ہے، لیکن امریکا کے ضرورت سے زیادہ اور بے جا مطالبات اس عمل میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔
اس گفتگو کے دوران اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کسی بھی ریاست کے خلاف طاقت کے استعمال کو یکسر مسترد کر دیا اور خطے میں پائیدار امن و استحکام کے لیے سفارتی عمل کو مسلسل جاری رکھنے پر زور دیا۔
اسی دوران مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی کے خاتمے اور امن کی کوششوں میں ایک بہت بڑا بریک تھرو بھی سامنے آیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، پاکستان کی کامیاب ثالثی کے نتیجے میں امریکا اور ایران نے ایک تاریخی امن معاہدے کا مسودہ تیار کر لیا ہے۔
عرب ٹی وی ’العریبیہ‘ کے مطابق اس نو نکاتی معاہدے کا اعلان جلد متوقع ہے، جس میں تمام محاذوں پر فوری، جامع اور غیر مشروط جنگ بندی شامل ہے۔
اس مسودے کے تحت دونوں فریقین ایک دوسرے کی فوجی، سویلین یا اقتصادی تنصیبات کو نشانہ نہ بنانے کے پابند ہوں گے، جبکہ فوجی کارروائیاں اور میڈیا وار روکنے کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کی یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے۔
مزید برآں، خلیج عرب، آبنائے ہرمز اور بحرِ عمان میں بحری جہازوں کی آزادانہ آمد و رفت کو یقینی بنایا جائے گا، اور فریقین سات دنوں کے اندر دوبارہ مذاکرات شروع کریں گے جس کے بعد امریکا ایران پر عائد پابندیاں مرحلہ وار اٹھائے گا۔
تاہم، ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے مذاکرات کی باریکیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس وقت بات چیت کا پورا محور صرف جنگ کا خاتمہ ہے اور ان مذاکرات میں جوہری امور پر کوئی بات نہیں کی جا رہی۔
تہران میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے کہا کہ اگر ہم انتہائی افزودہ یورینیم سے متعلق تفصیلات میں جانے کی کوشش کریں گے تو کسی نتیجے تک نہیں پہنچ سکیں گے۔
انہوں نے دھیمے مزاج کے ساتھ سفارت کاری کی حقیقت بیان کرتے ہوئے کہا کہ چند دوروں، ہفتوں یا مہینوں کی بات چیت کے بعد یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ہم کسی حتمی نتیجے پر پہنچ گئے ہیں، کیونکہ سفارت کاری میں ہمیشہ وقت لگتا ہے۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ ایران اور امریکا کے درمیان اختلافات بہت گہرے اور نمایاں ہیں، اس لیے ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ہم کسی معاہدے کے بالکل قریب پہنچ چکے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ اس وقت قطر کا ایک اعلیٰ سطح کا وفد بھی تہران میں موجود ہے جو ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ الگ سے بات چیت کر رہا ہے تاکہ امن کی ان کوششوں کو مزید تقویت دی جا سکے۔
اس اہم ترین موڑ پر پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی جاری ثالثی کوششوں کے سلسلے میں تہران پہنچ گئے ہیں، جہاں ہوائی اڈے پر ایران کے وزیرِ داخلہ اسکندر مومنی اور پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔
اس دورے کو خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کا ایک بڑا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے بھی پاکستان کے اس کردار کی کھل کر تعریف کی ہے۔
اپنے ایک بیان میں امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا اور ایران کے مذاکرات میں پاکستان ایک مخلص ثالث ہے اور ہم اس سلسلے میں فیلڈ مارشل عاصم منیر سے مسلسل رابطے میں ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم چاہتے ہیں ایران کے ساتھ یہ معاہدہ طے پا جائے، تاہم اب معاہدہ کرنا یا نہ کرنا خود ایران پر منحصر ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاملے پر اپنے روایتی انداز میں تبصرہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی فوجی کارروائیوں کی وجہ سے اب ایران معاہدے کے لیے بے تاب نظر آتا ہے۔
وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ہم ایران کو کسی بھی قیمت پر ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔
انہوں نے اپنی طاقت کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا کہ امریکی فوج دنیا کی سب سے طاقتور فوج ہے، ہم نے ایران کی بحریہ اور فضائیہ کو تباہ کر دیا ہے اور ان کے کئی رہنما بھی مارے جا چکے ہیں۔
امریکی صدر نے اپنے حالیہ دوروں کا ذکر کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ میں نے چین کا ایک تاریخی دورہ کیا ہے اور صدر شی جن پنگ ایک اچھے آدمی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ دو سال پہلے امریکا ایک مردہ ملک بن چکا تھا لیکن اب ہماری پالیسیوں کی وجہ سے دنیا کا ہر ملک امریکا کی عزت کر رہا ہے۔
پاکستان کی ثالثی رنگ لے آئی: امریکہ اور ایران میں تاریخی جنگ بندی کا نو نکاتی مسودہ تیار، فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران پہنچ گئے