
مسلم لیگ ن کے ایم پی اے ثاقب چدھڑ اور اداکارہ مومنہ اقبال کے درمیان جاری تنازع پر وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا مؤقف بھی سامنے آگیا ہے۔
سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا ہے کہ ن لیگی ایم پی اے اور معروف میڈیا شخصیت کے درمیان تنازع اگرچہ ایک ذاتی نوعیت کا ہے، تاہم اس پر مکمل میرٹ اور قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔
مریم نواز نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ ’میں یہ بالکل واضح کر دینا چاہتی ہوں کہ جو کوئی بھی کسی خاتون کو ہراساں کرنے، دھمکیاں دینے یا استحصال میں ملوث پایا گیا، اسے کسی صورت نہیں چھوڑوں گی‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ چاہے کوئی بھی شخص ہو، اس کا عہدہ یا سیاسی وابستگی کچھ بھی ہو، قانون سب کے لیے برابر ہے اور کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ریاستی ادارے آئین اور قانون کے مطابق اپنی ذمہ داریاں آزادانہ اور غیر جانبدار طریقے سے انجام دیں گے اور اس معاملے میں کسی بھی قسم کے سیاسی دباؤ کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
مریم نواز نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ کسی خاتون کو ذاتی مواد منظرِ عام پر لانے کی دھمکی دے کر دباؤ ڈالنے یا استحصال کرنے کی ہر کوشش کا سخت جواب دیا جائے گا۔ مریم نواز نے بیان کا اختتام ان الفاظ کے ساتھ کیا کہ ’اس پیغام کو متعلقہ عناصر کے لیے وارننگ سمجھا جائے‘۔
واضح رہے کہ یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے کہ جب اداکارہ مومنہ اقبال کی جانب سے خبریں سامنے آرہی ہیں کہ انہوں نے رکنِ صوبائی اسمبلی ثاقب چدھڑ پر ہراسانی کے الزامات کے بعد مبینہ طور پر نجی تصاویر لیک کرنے کا بھی الزام عائد کیا ہے اور ذاتی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کیے جانے سے روکنے کی استدعا کی ہے۔
دوسری جانب ثاقب چدھڑ نے مومنہ اقبال پر ’ویمن کارڈ کھیلنے‘ کا الزام عائد کیا ہے۔ لیگی ایم پی اے نے خود پر عائد تمام الزامات کو جھوٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مومنہ اقبال کے منگیتر نے ان کے موبائل فون میں کوئی ویڈیو دیکھ کر مجھے فون کیا تھا اور دھمکیاں دی تھیں، جس کے بعد میں نے پولیس میں رپورٹ درج کرائی تو یہ بات سامنے آئی کہ وہ مومنہ اقبال کے منگیتر ہیں۔
ثاقب چدھڑ کے مطابق اس معاملے کے بعد مومنہ اقبال اور ان کی والدہ نے خود انہیں فون کرکے معذرت کی اور کہا کہ ان کے منگیتر نے طیش میں آکر کال تھی، انہیں معاف کردیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 8 ماہ سے ان کا مومنہ اقبال سے کوئی رابطہ نہیں اور نہ ہی انہیں اداکارہ کی شادی کے معاملے کا کوئی علم تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس ان تمام باتوں کا ریکارڈ موجود ہے۔