غزہ میں صحت کا نظام تباہی کے دہانے پر، 76 فی صد طبی آلات اور مشینیں ناکارہ

غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں کے دوران علاقے کا صحت کا نظام شدید متاثر ہوا ہے، جہاں طبی امیجنگ کے 76 فی صد سے زائد آلات تباہ ہو چکے ہیں اور باقی محدود وسائل کے ساتھ مریضوں کے بڑھتے ہوئے دباؤ کو سنبھالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

قطری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ ایم آر آئی سروسز مکمل طور پر بند ہو چکی ہیں کیونکہ نو مشینیں تباہ ہو گئی ہیں، جب کہ موجود 18 میں سے صرف پانچ سی ٹی اسکین مشینیں کام کر رہی ہیں اور وہ بھی شدید استعمال کے باعث مسلسل خرابی کا شکار ہیں۔

رپورٹ کے مطابق جنگ سے قبل غزہ میں 88 عام ایکسرے مشینیں موجود تھیں، جن میں سے اب صرف 33 فعال ہیں، تاہم یہ مشینیں شدید استعمال کے باعث بار بار خراب ہو رہی ہیں۔ وزارتِ صحت نے یہ بھی بتایا کہ آپریشن تھیٹرز میں استعمال ہونے والے 16 فلوروسکوپی آلات میں سے صرف پانچ باقی رہ گئے ہیں، جس سے سرجری کے عمل میں بھی شدید مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔

غزہ کے صحت حکام کے مطابق موجودہ صورتِ حال میں زخمیوں اور مریضوں کو بروقت تشخیص اور علاج کی سہولت میسر نہیں، جس سے انسانی بحران مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے۔

خیال رہے کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ میں جاری جنگ اور مسلسل بمباری کے باعث انسانی صورتِ حال بدستور انتہائی خراب ہے۔ عالمی ادارہ صحت اور مقامی حکام کے مطابق صحت کا نظام تقریباً مفلوج ہو چکا ہے، بیشتر اسپتال یا تو تباہ ہو چکے ہیں یا محدود وسائل کے ساتھ کام کر رہے ہیں، جب کہ طبی عملہ شدید کمی اور دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔

عالمی اداروں کی رپورٹس کے مطابق ادویات، ایندھن اور طبی سامان کی شدید قلت برقرار ہے، جس کے باعث مریضوں کو بروقت علاج میسر نہیں آ رہا۔ امدادی سرگرمیاں بھی نقل و حرکت پر پابندیوں، بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور مسلسل سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے شدید متاثر ہو رہی ہیں، جس سے عام شہریوں کے لیے حالات مزید مشکل ہوتے جا رہے ہیں۔

اسی تناظر میں پیر کے روز گلوبل صمود فلوٹیلا (جی ایس ایف) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کے بیڑے کو غزہ سے تقریباً 250 ناٹیکل میل (460 کلومیٹر) دور روکنا شروع کر دیا ہے، انھوں نے اسرائیل کے اس اقدام کو غیرقانونی قزاقی قرار دیا ہے۔

فلسطین حامی کارکنوں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج قبرص کے مغرب میں بین الاقوامی پانیوں میں غزہ کے لیے امداد لے جانے والی 50 سے زائد کشتیوں پر مشتمل ایک بیڑے کو روک رہی ہیں۔

اس سے قبل اس بیڑے میں شام ایک کشتی پر سوار پاکستانی شہری سعد ایدھی نے ایک ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے بتایا تھا کہ اسرائیلی فوج کی کشتیاں صبح سے صمود فلوٹیلا میں شامل کشتیوں کا پیچھا کر رہی تھیں اور انھوں نے کشتیوں کا روکنا شروع کر دیا ہے۔

گذشتہ ماہ اسرائیلی افواج نے اسی فلوٹیلا کی 22 کشتیوں کو یونانی جزیرے کریٹ کے قریب روک لیا تھا۔ اس واقعے میں کشتیوں پر سوار تقریباً 175 کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا تھا، جن میں سے دو کے علاوہ باقی سب کو اگلے ہی روز شدید بین الاقوامی ردِعمل کے بعد یونان کے جزیرے پر رہا کر دیا گیا تھا۔

دوسری جانب فلسطینی وزارتِ خارجہ کے مطابق اسرائیلی منصوبے میں مشرقی یروشلم کے علاقے شیخ جراح میں واقع یو این آر ڈبلیو اے کے ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا گیا ہے، جہاں مبینہ طور پر عمارت کے ملبے پر اسرائیلی فوج اور سیکیورٹی تنصیبات تعمیر کرنے کا ارادہ ہے، جسے ایک میوزیم کی تعمیر کا نام دیا جا رہا ہے۔

’الجزیرہ‘ کے مطابق بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے مترادف ہے اور اس سے ایک خطرناک مثال قائم ہو سکتی ہے جو عالمی اداروں کی آزادی اور انسانی ہمدردی کے اصولوں کے لیے نقصان دہ ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل اور یو این آر ڈبلیو اے کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ یو این آر ڈبلیو اے فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے انسانی امداد فراہم کرنے والا بنیادی ادارہ ہے۔

اسرائیل پہلے ہی ملک میں یو این آر ڈبلیو اے کی سرگرمیوں پر قانون سازی کے ذریعے پابندی عائد کر چکا ہے، جس کے بعد اس ادارے کی سفارتی مراعات ختم کر دی گئی ہیں اور ریاستی سطح پر تمام باضابطہ روابط منقطع ہو چکے ہیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles