گرفتاری کے بعد پنکی سے کون سی چیزیں برآمد ہوئیں؟ پولیس نے بتادیا


کراچی میں گرفتار منشیات فروش ملزمہ انمول عرف پنکی کیس میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان نے بتایا کہ ملزمہ کے نیٹ ورک کے تانے بانے ملک بھر اور بیرون ملک تک پھیلے ہوئے ہیں اور پولیس نے کیس سے جڑے چار اہم نام ای سی ایل میں شامل کرنے کی درخواست بھی کردی ہے۔
کراچی پولیس کی جانب سے گرفتار مبینہ منشیات فروش انمول عرف پنکی سے تحقیقات کا دائرہ وسیع کردیا گیا ہے، جس میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ اس کا نیٹ ورک نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ملک تک سرگرم ہے۔
جمعے کو ایڈیشنل انسپکٹر جنرل (اے آئی جی) کراچی آزاد خان نے سینٹرل پولیس آفس میں دیگر سینیئر افسران کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران انمول عرف پنکی کی گرفتاری سے متعلق تفصیلات جاری کیں اور بتایا کہ انمول عرف پنکی کی گرفتاری 12 مئی کو کراچی سے ہوئی، وفاقی حساس ادارے اور پولیس نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر آپریشن کیا۔ آپریشن کے دوران گارڈن تھانے کی حدود سے پنکی کو گرفتار کرکے اس سے ڈیڑھ کلو کوکین، نائن ایم ایم پستول اور کوکین بنانے میں استعمال ہونے والا کیمیکل برآمد کیا گیا۔
آزاد خان کے مطابق انمول عرف پنکی 2014 سے منشیات کے دھندے سے وابستہ رہی ہے جب کہ 2018 سے اس نے کراچی میں آن لائن نیٹ ورک کے ذریعے سرگرمیاں شروع کیں۔ تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ انمول عرف پنکی پر صرف سندھ میں 20 مقدمات درج ہیں، جن میں سے 17 پرانے ہیں اور لاہور میں 3 مقدمات درج ہیں، پنکی کے خلاف بعض پرانے مقدمات بھی زیر تفتیش ہیں جب کہ ایک قتل کا مقدمہ بھی درج ہے، ان کے مطابق اے این ایف کیس میں ملزمہ مفرور تھی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ انمول عرف پنکی کے موبائل فون سے 869 نمبرز ملے ہیں، جن میں منشیات نیٹ ورک سے جڑے افراد شامل ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق ملزمہ کے ایک اکاؤنٹ میں تقریباً 3 کروڑ روپے کی ٹرانزیکشنز بھی سامنے آئی ہیں جب کہ ملزمہ کے 9 رائیڈرز میں سے 8 کا تعلق پنجاب جب کہ ایک کا کراچی سے ہے۔
ایڈیشنل آئی جی کراچی کے مطابق کیس میں ملوث 4 اہم ناموں کو ای سی ایل میں شامل کرنے کی سفارش کی گئی ہے جب کہ پنجاب پولیس، اینٹی نارکوٹکس فورس اور دیگر اداروں کے ساتھ مشترکہ کارروائیاں جاری ہیں۔
پریس کانفرنس میں ایڈیشنل آئی جی نے مزید بتایا کہ اس کیس کی تفتیش کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے، جس کی سربراہی وہ خود کریں گے جب کہ ڈی آئی جی سی ٹی ڈی، ڈی آئی جی کرائم، ڈی آئی جی اسپیشل برانچ اور دیگر افسران شامل ہوں گے۔
پولیس کے مطابق ملزمہ کے نیٹ ورک میں تقریباً 20 خواتین بھی شامل ہیں جب کہ مجموعی طور پر 300 افراد منشیات کے نیٹ ورک سے جڑے ہوئے ہیں۔ حکام کے مطابق کچھ غیر ملکی خصوصاً افریقی سہولت کار بھی لاہور میں موجود ہیں۔
آزاد خان نے بتایا کہ پولیس کے مطابق ملزمہ کے پرانے گھر سے بھی کوکین برآمد ہوئی ہے جب کہ مجموعی طور پر 500 صفحات پر مشتمل اسٹیٹمنٹ تیار کی گئی ہے۔

ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا نے واضح کیا کہ ملزمہ کی اسپتال منتقلی کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں اور وہ اس وقت تھانے میں ہی موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز ملزمہ کا میڈیکل مکمل کیا گیا جو تسلی بخش تھا جبکہ اسے کل ریمانڈ کے لیے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
پولیس حکام کے مطابق کیس کی مزید تفتیش جاری ہے اور نیٹ ورک سے جڑے دیگر افراد کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
واضح رہے کہ 12 مئی کو پولیس اور ایک وفاقی ادارے کی مشترکہ کارروائی کے دوران کراچی کے علاقے گارڈن سے انمول عرف پنکی کو گرفتار کیا گیا تھا۔ گرفتاری کے بعد ملزمہ کے پُرتعیش انداز، گاہکوں سے سودے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چیلنج کرنے کی مبینہ آڈیو ریکارڈنگ نے سوشل میڈیا پر خاصی توجہ حاصل کی تھی۔
کراچی پولیس کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق انمول عرف پنکی مختلف تھانوں میں درج مقدمات میں نامزد اور مفرور قرار دی جا چکی ہے۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق اسے پہلی بار 2018 میں کراچی میں گرفتار کیا گیا تھا تاہم مبینہ اثر و رسوخ کے باعث وہ جلد ضمانت پر رہا ہوگئی تھی۔ بعد ازاں لاہور اور اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) میں درج مقدمات بھی سامنے آئے ہیں، جس کے بعد یہ کیس مزید حساس ہوگیا ہے۔
تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ ملزمہ کراچی سے لاہور تک پھیلے اربوں روپے مالیت کے منشیات نیٹ ورک کی مرکزی کردار ہے۔ اس مبینہ نیٹ ورک میں اس کے قریبی رشتہ دار، خصوصاً بھائی بھی شامل ہیں، جبکہ منشیات کی ترسیل کے لیے خواتین بائیک رائیڈرز کا استعمال بھی کیا جاتا تھا۔ تفتیشی رپورٹس کے مطابق ملزمہ نہ صرف منشیات کی سپلائی بلکہ کوکین کی تیاری میں بھی مہارت رکھتی ہے اور اس نے مبینہ طور پر اپنا ایک الگ برانڈ متعارف کرا رکھا تھا۔
کراچی کی مقامی عدالت نے 12 مئی کو ملزمہ کا تین مقدمات میں جسمانی ریمانڈ دیا تھا جو آج رات 12 بجے مکمل ہو رہا ہے، سرکاری وکلاء کے مطابق ملزمہ انمول عرف پنکی کو ہفتے کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles