بیجنگ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی اہم ملاقات تقریباً دو گھنٹے جاری رہنے کے بعد ختم ہو گئی ہے۔ اس ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے بیجنگ میں 600 سال پرانی تاریخی جگہ ’ٹیمپل آف ہیون‘ کا دورہ بھی کیا، جو یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل ہے۔ یہ وہ تاریخی مقام ہے جو 1420 میں منگ خاندان کے دور میں تعمیر کیا گیا تھا اور اسے شاہی قربانیوں اور اچھی فصل کی دعا کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
جب امریکی صدر ٹیمپل آف ہیون پہنچے تو ان سے سوال کیا گیا کہ صدر شی جن پنگ کے ساتھ ان کی بات چیت کیسی رہی۔
امریکی خبر رساں ایجنسی ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کے مطابق، صدر ٹرمپ نے ان مذاکرات کو ”بہترین“ قرار دیا۔
تاہم، ٹرمپ نے اس حوالے سے پوچھے گئے مزید سوالات کا جواب نہیں دیا کہ آیا ان کے درمیان تائیوان کے معاملے پر بھی بات ہوئی ہے یا نہیں۔

تجزیہ کاروں کے لیے ٹرمپ کا یہ رویہ حیران کن ہے کیونکہ جنوری 2025 میں ان کی واپسی پر سخت اقدامات کی توقع کی جا رہی تھی۔
لا ٹروب یونیورسٹی کے پروفیسر نک بسلے نے قطری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ سے گفتگو میں کہا کہ ”جنوری 2025 میں ہم میں سے بہت سے لوگوں نے کہا تھا کہ ٹرمپ چین کو سخت وقت دیں گے، لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا“۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ کے باوجود ٹرمپ کا بیجنگ آنا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اس تعلق کو کتنی ترجیح دے رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چینی اور امریکی صدور کی اس ملاقات کے نتائج بہت سیدھے اور کاروباری نوعیت کے ہو سکتے ہیں۔
آزاد اسٹریٹجسٹ اینڈریو لیونگ کے مطابق، چین کے لیے امریکا سے سویا بین خریدنا کوئی مشکل کام نہیں ہے کیونکہ چین پہلے ہی برازیل سے یہ خریداری کر رہا ہے اور اسے دوبارہ امریکا کی طرف موڑنا آسان ہے۔ اسی طرح طیاروں کی خریداری کے حوالے سے لیونگ نے کہا کہ ”چین کو بہت سے طیارے خریدنے ہیں، اگر وہ بوئنگ سے نہیں خریدے گا تو ایئربس سے خریدے گا“، لہذا ان آرڈرز کو امریکا کی طرف منتقل کرنا چین کے لیے ایک چھوٹی سی رعایت ہو گی۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ اپنے ساتھ ایپل، بلیک راک اور ٹیسلا جیسی بڑی کمپنیوں کے وفود لائے ہیں تاکہ وہ اپنی سیاسی بنیادوں کو مضبوط کرنے کے لیے سرمایہ کاری اور مارکیٹ تک رسائی کے وعدے حاصل کر سکیں۔
اس ملاقات میں تائیوان کا معاملہ صدر شی جن پنگ کے لیے سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ اگر وہ صدر ٹرمپ کو تائیوان کی آزادی یا ہتھیاروں کی فروخت کے حوالے سے اپنے موقف میں تبدیلی پر راضی کر لیتے ہیں، تو یہ چین کے لیے ایک بڑی کامیابی تصور کی جائے گی۔
چین کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ محاذ آرائی کے مقابلے میں تعاون زیادہ قیمتی ہے۔ اس کے بدلے میں چین امریکا سے محصولات میں کمی، چینی کمپنیوں پر لگی پابندیاں ختم کرنے اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی کا مطالبہ کر سکتا ہے۔
وائٹ ہاؤس کا اشارہ اب تعلقات کو مستحکم کرنے اور بہتر بنانے کی طرف ہے، جو نہ صرف ایشیا بلکہ پوری دنیا کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔