
ایران نے وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ کو بیٹی کی پیدائش پر مبارکباد دیتے ہوئے فروری میں ایرانی شہر مناب کے اسکول پر ہونے والے حملے کا بھی ذکر چھیڑ دیا۔ ایرانی سفارتخانے نے سوشل میڈیا پر کہا کہ جس طرح لیویٹ کی بیٹی معصوم اور پیاری ہے، اسی طرح مناب میں مارے جانے والے بچے بھی معصوم تھے۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے جمعرات کو اپنی دوسری اولاد، بیٹی ’’ویویانا‘‘ کی پیدائش کا اعلان کیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر نومولود بیٹی کو گود میں اٹھائے تصویر بھی شیئر کی۔
28 سالہ کیرولین لیویٹ، جو امریکی تاریخ کی کم عمر ترین وائٹ ہاؤس پریس سیکریٹری ہیں، نے اپنی پوسٹ میں لکھا، “یکم مئی کو ویویانا، یعنی ’ویوی‘، ہمارے خاندان کا حصہ بنی اور ہمارا دل محبت سے بھر گیا۔ وہ بالکل صحت مند ہے اور اس کا بڑا بھائی بھی اپنی نئی بہن کے ساتھ خوشی سے ایڈجسٹ ہو رہا ہے۔”
لیکن اس خوشی کے موقع پر ایران نے ایک تنقیدی پیغام بھی جاری کیا۔ آرمینیا میں ایرانی سفارتخانے نے ایکس پر لکھا، “آپ کو مبارک ہو۔ بچے معصوم اور پیارے ہوتے ہیں۔
مناب کے اسکول میں آپ کے باس کے ہاتھوں مارے جانے والے 168 بچے بھی بچے تھے، جن کے حملے کا آپ نے دفاع کیا تھا۔ جب آپ اپنی بیٹی کو چومیں تو ان بچوں کی ماؤں کو بھی یاد کریں۔”
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق 28 فروری کو مناب کے ایک پرائمری اسکول پر حملے میں 73 لڑکے اور 47 لڑکیاں ہلاک ہوئی تھیں۔
رپورٹ کے مطابق حملے میں 26 اساتذہ، 7 والدین، ایک اسکول بس ڈرائیور اور اسکول کے قریب کلینک میں کام کرنے والا ایک فارمیسی ٹیکنیشن بھی مارا گیا تھا۔
یہ حملہ اس روز ہوا تھا جب امریکا اور اسرائیل نے ایران کے مختلف مقامات پر کارروائیاں کی تھیں، جس کے جواب میں تہران نے اسرائیل اور خلیجی ممالک میں اہداف کو نشانہ بنایا تھا۔
مارچ میں کیرولین لیویٹ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ امریکا شہریوں کو نشانہ نہیں بناتا۔ ان کا کہنا تھا، ’’اس معاملے کی تحقیقات جاری ہیں، لیکن ایرانی حکومت شہریوں اور بچوں کو نشانہ بناتی ہے، امریکا نہیں۔‘‘
دوسری جانب امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے رپورٹ کیا تھا کہ ابتدائی فوجی تحقیقات کے مطابق امریکی ٹوماہاک میزائل نشانے کی غلطی کے باعث اسکول سے ٹکرا گیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابتدا میں دعویٰ کیا تھا کہ ممکنہ طور پر ایران خود اس حملے کا ذمہ دار ہے، حالانکہ ایران کے پاس ٹوماہاک میزائل موجود نہیں ہیں۔ بعد ازاں جب ان سے اسکول کے قریب امریکی میزائل گرنے کی ویڈیو کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا، “میں نے وہ ویڈیو نہیں دیکھی”، اور بغیر ثبوت کے دعویٰ کیا کہ ایران کے پاس بھی ٹوماہاک میزائل ہیں۔
11 مارچ کو جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ ابتدائی امریکی تحقیقات میں اسکول پر امریکی حملے کی بات سامنے آئی ہے، تو انہوں نے جواب دیا، “مجھے اس بارے میں معلوم نہیں۔”