
اسرائیل نے غزہ جانے والے فلوٹیلا سے تعلق رکھنے والے دو غیر ملکی کارکنوں کو حراست کے بعد ملک بدر کر دیا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم ’’عدالہ‘‘ کے مطابق ہسپانوی نژاد فلسطینی کارکن سیف ابو کشیک اور برازیل سے تعلق رکھنے والے تھیاگو اویلا کو ہفتے کے روز رہا کیا جا رہا ہے۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ دونوں افراد کو امیگریشن حکام کے حوالے کیا جائے گا اور ملک بدری تک حراست میں رکھا جائے گا۔
دونوں کارکنوں کی نمائندگی کرنے والی وکیل ہدیل ابو صالح نے الجزیرہ سے گفتگو میں کہا کہ انہیں آئندہ چند روز میں ان کے آبائی ممالک بھیج دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ عدالہ تنظیم اس تمام عمل کی قریبی نگرانی کر رہی ہے تاکہ رہائی یقینی بنائی جا سکے۔
سیف ابو کشیک اور تھیاگو اویلا اُن درجنوں کارکنوں میں شامل تھے جو “گلوبل صمود فلوٹیلا” کے تحت غزہ کے لیے روانہ ہوئے تھے۔ یہ فلوٹیلا انسانی امداد غزہ پہنچانے کی کوشش کر رہا تھا، تاہم اسرائیلی فورسز نے یونان کے ساحل کے قریب بین الاقوامی پانیوں میں اسے روک لیا۔
رپورٹ کے مطابق فلوٹیلا کے دیگر 168 کارکنوں کو یونانی جزیرے کریٹ منتقل کرکے رہا کر دیا گیا تھا، جبکہ ابو کشیک اور اویلا کو مزید پوچھ گچھ کیلئے اسرائیل منتقل کیا گیا۔
ادھر اسرائیلی وزارت خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ دونوں کارکنوں کو تفتیش مکمل ہونے کے بعد ڈی پورٹ کیا جا رہا ہے۔
اسرائیل نے دونوں افراد کو ’’پیشہ ور اشتعال انگیز‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ غزہ کی “قانونی بحری ناکہ بندی” کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
وکیل ہدیل ابو صالح نے اسرائیلی کارروائی کو ’’بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ قانونی ٹیم نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ یہ تمام کارروائی بے بنیاد اور سیاسی نوعیت کی تھی، جس کا مقصد غزہ کی ناکہ بندی کو چیلنج کرنے والوں کو سزا دینا تھا۔
انسانی حقوق تنظیم عدالہ کے مطابق دورانِ حراست دونوں کارکنوں کو سخت اور تنہائی کی صورتحال میں رکھا گیا، حالانکہ ان کا مشن مکمل طور پر شہری اور انسانی امداد پر مبنی تھا۔