بھارتی جاسوس سربجیت سنگھ حملہ کیس کا اہم کردار عامر عرف تانبا انتقال کر گیا


بھارتی جاسوس سربجیت سنگھ پر 2013 میں جیل میں ہونے والے حملے میں نامزد ملزم عامر سرفراز عرف عامر تانبا کا انتقال ہوگیا۔ عامر تانبا اس ہائی پروفائل کیس میں عدالت سے بری ہو چکا تھا، جس کے بعد 2024 میں نامعلوم افراد نے گھر میں گھس کر قتل کرنے کی بھی کوشش کی تھی۔
ذرائع کے مطابق عامر سرفراز عرف عامر تانبا کی طبیعت گزشتہ کچھ عرصے سے ناساز تھی۔ طبیعت زیادہ خراب ہونے پر اسے اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ دورانِ علاج انتقال کر گیا۔
عامر سرفراز عرف عامر تانبا ان دو افراد میں شامل تھا جن پر 2013 میں لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں بھارتی جاسوس سربجیت سنگھ پر حملے کا الزام تھا۔
بھارتی جاسوس سربجیت سنگھ کو 1990 میں پاکستانی سرحد عبور کرنے پر گرفتار کیا گیا تھا۔ اس پر لاہور، ملتان اور فیصل آباد میں ہونے والے بم دھماکوں کا الزام تھا، جن میں 14 پاکستانی شہری جاں بحق ہوئے تھے۔
سربجیت سنگھ نے پہلے خود کو ایک کسان ظاہر کیا تھا اور مؤقف اپنایا تھا کہ اس نے غلطی سے پاکستانی سرحد عبور کی، بعد ازاں اس نے اپنے جرم کا اعتراف کرلیا تھا۔
عدالتی کارروائی کے بعد 1991 میں پاکستانی عدالتوں نے اسے سزائے موت سنائی تھی، جس کی توثیق سپریم کورٹ نے بھی کی۔ وہ دو دہائیوں سے زائد عرصے تک کوٹ لکھپت جیل میں قید رہا۔ اس دوران سربجیت سنگھ نے کئی مرتبہ معافی کی درخواست کی تھی جو کہ رد کردی گئی تھی۔
سربجیت سنگھ پر قاتلانہ حملے کا واقعہ 26 اپریل 2013 کو لاہور کی سینٹرل جیل کوٹ لکھپت میں پیش آیا تھا۔ جیل انتظامیہ کا کہنا تھا کہ جب سربجیت سنگھ کو معمول کی چہل قدمی کے لیے کال کوٹھڑی سے باہر لایا گیا تو اسی دوران دو قیدیوں نے اس پر قاتلانہ حملہ کیا۔
حملے کے نتیجے میں سربجیت سنگھ کے سر پر گہری چوٹیں آئی تھیں، جس کے بعد اسے انتہائی تشویش ناک حالت میں جناح اسپتال لاہور منتقل کیا گیا تھا۔ وہ کئی روز تک انتہائی نگہداشت وارڈ (آئی سی یو) میں وینٹی لیٹر پر زیرِ علاج رہا، تاہم 2 مئی 2013 کو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔ بعد ازاں اس کی لاش بھارت کے حوالے کر دی گئی تھی۔
حملے کے بعد عامر تانبا اور مدثر منیر کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا گیا۔ ابتدائی بیانات میں حملہ آوروں نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ انہوں نے یہ حملہ حب الوطنی کے جذبے کے تحت کیا کیوں کہ سربجیت سنگھ پاکستان میں بم دھماکوں کا ماسٹر مائنڈ تھا جس میں کئی شہری قتل ہوئے تھے۔
تاہم دسمبر 2018 میں لاہور کی سیشن عدالت نے تمام گواہوں کے منحرف ہونے اور شواہد کی عدم موجودگی کی بنیاد پر عامر تانبا اور مدثر منیر دونوں کو بری کرنے کا حکم دے دیا۔
بعد ازاں اپریل 2024 میں اس کیس نے ایک بار پھر توجہ حاصل کی، جب لاہور کے علاقے اسلام پورہ میں نامعلوم موٹر سائیکل سوار گھر میں داخل ہو کر عامر سرفراز عرف عامر تانبا پر فائرنگ کر کے فرار ہو گئے۔ فائرنگ کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گیا تھا اور اسے اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔
اس واقعے کے بعد عامر تانبا کے بھائی جنید سرفراز نے درج کرائی گئی ایف آئی آر میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ دو حملہ آور گھر میں داخل ہوئے اور عامر کو تین گولیاں ماریں۔ ایف آئی آر کے مطابق ایک حملہ آور نے ہیلمٹ جبکہ دوسرے نے ماسک پہن رکھا تھا۔
پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے 15 اپریل 2024 کو ایک پریس کانفرنس کے دوران واضح طور پر کہا تھا کہ ’عامر تانبا پر حملے کے تمام شواہد اس واقعے میں براہِ راست بھارت کے ملوث ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔‘
سربجیت سنگھ اور اس کے قتل کے واقعے پر بھارت میں ایک فلم بھی بن چکی ہے جس میں اسے ایک عام کسان کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو غلطی سے سرحد پار کرجاتا ہے۔ جب کہ ہمیشہ کی طرح پاکستان میں ہونے والے بم دھماکوں میں اس کے ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد اور عدالتی فیصلوں سمیت اصل حقائق کو فلم میں نظر انداز کیا گیا ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles