روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے یوکرین جنگ کے خاتمے کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ یوکرین تنازع اپنے اختتامی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جبکہ انہوں نے یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی سے کسی تیسرے ملک میں ملاقات پر بھی آمادگی ظاہر کر دی۔
ماسکو میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر پیوٹن نے کہا کہ یوکرین سے مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے پر وہ امریکا کے شکر گزار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اب یہ معاملہ صرف روس اور یوکرین کے درمیان رہ گیا ہے اور دونوں ممالک کو ہی اس کا حل نکالنا ہوگا۔
روسی صدر نے امید ظاہر کی کہ ایران سے متعلق جاری تنازع بھی جلد از جلد ختم ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں کشیدگی کم ہونا عالمی امن کے لیے ضروری ہے۔
پیوٹن نے بتایا کہ چیکو سلوواکیہ کے وزیراعظم نے انہیں آگاہ کیا ہے کہ یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی ملاقات کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر امن معاہدہ طے پا جاتا ہے تو وہ کسی تیسرے ملک میں صدر زیلنسکی سے ملاقات کر سکتے ہیں۔
روسی صدر کا مزید کہنا تھا کہ روس اور چین اہم گیس اور تیل کے معاہدوں کے قریب پہنچ چکے ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنائیں گے۔