
متحدہ عرب امارات میں اس سال عیدالاضحیٰ مئی کے آخر میں متوقع ہے اور شہری ابھی سے اپنی چھٹیوں کی منصوبہ بندی میں مصروف ہیں۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یومِ عرفہ 26 مئی کو ہوگا جبکہ 27 سے 29 مئی تک سرکاری تعطیلات ہوں گی۔ ایسے میں ہفتہ اور اتوار کی چھٹی رکھنے والے افراد کے لیے تقریباً چھ دن کی مسلسل تعطیلات بن رہی ہیں، جسے بہت سے لوگ مختصر بیرونِ ملک سفر کے لیے بہترین موقع سمجھ رہے ہیں۔
اس بار سفر کے انتخاب میں سب سے اہم چیز آسانی اور سہولت کو قرار دیا جا رہا ہے۔ یو اے ای میں کام کرنے والے ٹور آپریٹرز کے مطابق زیادہ تر مسافر ایسی جگہوں کا انتخاب کر رہے ہیں جہاں ویزا کی سخت شرائط نہ ہوں، پرواز کا دورانیہ کم ہو اور سفری پیکجز پہلے سے تیار دستیاب ہوں تاکہ منصوبہ بندی میں زیادہ وقت ضائع نہ ہو۔
سیاحتی کمپنیوں کے مطابق جارجیا، آذربائیجان، قازقستان، آرمینیا، مالدیپ، سری لنکا، تھائی لینڈ اور سیشلز اس وقت سب سے زیادہ مقبول مقامات بن کر سامنے آ رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ بہت سے لوگ عید سے صرف دو یا تین ہفتے پہلے بکنگ کراتے ہیں، اس لیے وہ ایسے ممالک کو ترجیح دیتے ہیں جہاں سفارت خانوں کے چکر اور طویل ویزا پراسیس سے بچا جا سکے۔
ٹریول کمپنیوں کے مطابق اس سال ایک دلچسپ رجحان یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ویتنام اور ازبکستان جیسے ممالک کی مانگ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ چند سال پہلے تک یہ مقامات عید کی تعطیلات کے لیے زیادہ مقبول نہیں تھے، لیکن اب مسافر نئے تجربات کی طرف مائل ہو رہے ہیں، خاص طور پر جب وہاں ویزا کی سہولت آسان ہو۔
ماہرین کے مطابق زیادہ تر خاندان اور درمیانی بجٹ والے افراد قریبی ممالک کو ترجیح دے رہے ہیں تاکہ کم وقت میں زیادہ آرام حاصل کیا جا سکے۔ اس کے باوجود یورپ، جاپان، سنگاپور اور ہانگ کانگ جیسے طویل فاصلے والے مقامات کی طلب مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ ایسے مسافر، جن کے پاس پہلے سے ویزے موجود ہیں یا جو مہنگی فیملی ویکیشن کا منصوبہ رکھتے ہیں، اب بھی ان مقامات کا رخ کر رہے ہیں۔
ٹریول کمپنیز کا کہنا ہے کہ اب لوگ صرف تین یا چار دن کے مختصر دوروں کے بجائے کم از کم چار سے پانچ راتوں پر مشتمل سفر کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ عید کے دوران فضائی ٹکٹوں کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ہیں، جس کی وجہ سے مسافر چاہتے ہیں کہ وہ اپنے سفر سے بھرپور لطف اٹھا سکیں۔
خرچ کے حوالے سے مختلف کمپنیوں کا کہنا ہے کہ ”سستا“ سفر ہر شخص کے لیے مختلف معنی رکھتا ہے۔ عام طور پر دبئی سے تین سے پانچ دن کے سفر کے لیے فی شخص 3500 سے 4000 درہم کا بجٹ مناسب سمجھا جا رہا ہے، جس میں پرواز، ہوٹل اور کچھ بنیادی سرگرمیاں شامل ہوتی ہیں۔
جارجیا، باکو، آرمینیا، کرغزستان اور ازبکستان جیسے مقامات پر چار سے پانچ دن کا سفر 3200 سے 4500 درہم کے درمیان ممکن بتایا جا رہا ہے۔
فیمیلیز کے لیے صورتِ حال کچھ مختلف ہے کیونکہ وہاں صرف قیمت نہیں بلکہ سہولیات بھی اہم ہوتی ہیں۔ ترکی، تھائی لینڈ اور مصر جیسے مقامات کے لیے 5 ہزار سے 7 ہزار درہم کے پیکجز کو سب سے زیادہ مقبول قرار دیا جا رہا ہے۔ دوسری طرف یورپ کے سفر عام طور پر 10 ہزار درہم یا اس سے اوپر جا رہے ہیں، جہاں زیادہ تر لوگ پہلے ہی مہنگے سفر کے لیے ذہنی طور پر تیار ہوتے ہیں۔
آذربائیجان کا دارالحکومت باکو اس وقت خاص توجہ حاصل کر رہا ہے۔ سفری ماہرین کے مطابق یہ شہر کم خرچ میں بھی پرتعیش احساس دیتا ہے۔ قدیم شہر، جدید عمارتیں اور متنوع کھانے سیاحوں کو اپنی طرف کھینچ رہے ہیں۔ اسی طرح تھائی لینڈ اور ملائیشیا کو بھی فیملیز کے لیے بہترین انتخاب قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ وہاں ہر عمر کے افراد کے لیے مختلف سرگرمیاں موجود ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آج کل کے مسافر خود تمام بکنگ اور منصوبہ بندی کرنے کے بجائے مکمل پیکجز کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان پیکجز میں فلائٹس، ہوٹل، ٹرانسفر، سیر و تفریح اور جہاں ضرورت ہو ویزا سپورٹ بھی شامل ہوتی ہے۔ ان کے مطابق مصروف زندگی میں لوگ بار بار مختلف ویب سائٹس دیکھ کر قیمتوں کا موازنہ کرنے کے بجائے ایک محفوظ اور آسان آپشن چاہتے ہیں۔
خصوصاً یورپ جانے والے مسافروں کے لیے شینگن ویزا کا عمل اب بھی ایک بڑا مرحلہ سمجھا جاتا ہے، اسی لیے بہت سے لوگ ایسے ٹریول پارٹنرز کا انتخاب کر رہے ہیں جو ویزا اپائنٹمنٹ اور دستاویزات کی تیاری میں مدد فراہم کرتے ہیں۔
ٹریول کمپنیز اور دیگر اداروں کے مطابق اب بہت سے لوگ صرف مشہور شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہتے بلکہ ان ممالک کے اندر موجود نسبتاً کم معروف مقامات کی طرف بھی توجہ دے رہے ہیں۔ مثال کے طور پر آذربائیجان میں شیکی اور جارجیا میں کازبیگی جیسے علاقے قدرتی حسن اور پُرسکون ماحول کی وجہ سے مقبول ہو رہے ہیں۔
اسی طرح کرغزستان، ازبکستان اور بوسنیا جیسے ممالک بھی آہستہ آہستہ یو اے ای کے مسافروں کی توجہ حاصل کر رہے ہیں۔ سمرقند کو دنیا کے خوبصورت ترین شہروں میں شمار کیا جا رہا ہے جبکہ کرغزستان اپنی جھیلوں، پہاڑوں اور روایتی ثقافت کی وجہ سے منفرد تجربہ فراہم کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق عمان بھی مختصر عید تعطیلات کے لیے ایک موزوں انتخاب بن رہا ہے کیونکہ وہاں داخلہ آسان ہے، کھانے کے اچھے مقامات موجود ہیں اور کم وقت میں بھی آرام دہ سفر ممکن ہے۔ شہری خطے کے اندر سفر کو ترجیح دے رہے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک عید کے موقع پر قریبی ثقافتی ماحول میں وقت گزارنا زیادہ خوشگوار محسوس ہوتا ہے۔