
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے ایران کے ساتھ جاری تنازع اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے حوالے سے گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران متضاد بیانات سامنے آئے ہیں، جس نے عالمی سطح پر الجھن پیدا کر دی ہے۔
منگل کے روز وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے وضاحت کی کہ امریکی فوج آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے بحری جہازوں کی حفاظت کر رہی ہے تاکہ وہ بحفاظت گزر سکیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ ایک دفاعی آپریشن ہے اور جنگ بندی اب بھی برقرار ہے، حالانکہ ایران نے امریکی افواج پر میزائل اور ڈرونز فائر کیے تھے جس کے جواب میں امریکا نے تہران کی چھوٹی حملہ آور کشتیاں ڈبو دی تھیں۔
اسی روز دوپہر کو وزیر خارجہ مارکو روبیو نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں کو بتایا کہ فوجی آپریشن مکمل ہو چکا ہے اور امریکا نے اپنے مقاصد حاصل کر لیے ہیں۔
تاہم انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ صدر ٹرمپ امن کا راستہ تلاش کر رہے ہیں جس کے لیے ضروری ہے کہ ایران تیل کی تجارت کے اس اہم راستے کو کھولنے کے معاہدے پر راضی ہو۔
منگل کو شام ہوتے ہی صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ بحری جہازوں کی حفاظت کی کوششیں فی الحال روک دی گئی ہیں تاکہ دیکھا جا سکے کہ کیا کوئی معاہدہ ممکن ہے۔ لیکن بدھ کی صبح انہوں نے دوبارہ دھمکی دی کہ اگر تہران امریکی شرائط پر راضی نہ ہوا تو بمباری دوبارہ شروع کر دی جائے گی۔
واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ فار نیئر ایسٹ پالیسی کی سینئر فیلو الزبتھ ڈینٹ نے امریکی نیوز ایجنسی ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ سے گفتگو میں کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ عوام کا بھروسہ پانے میں اس لیے مشکل کا شکار ہے کیونکہ اس جنگ کی منصوبہ بندی بہتر طریقے سے نہیں کی گئی تھی۔
ان کے بقول چونکہ یہ سب بہت تیزی سے ہوا، اس لیے امریکی عوام کو اسے اس طرح پیش نہیں کیا گیا کہ وہ اسے آسانی سے قبول کر سکیں۔
الزبتھ ڈینٹ نے مزید کہا کہ میرا خیال ہے کہ ٹرمپ اب دشمنی کو دوبارہ شروع ہونے سے روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں کیونکہ انہوں نے دیکھ لیا ہے کہ یہ جنگ کتنی غیر مقبول تھی۔
انٹرنیشنل کرائسز گروپ کے ایران ڈائریکٹر علی واعظ نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتظامیہ کسی پالیسی کے بجائے اچانک ابھرنے والے خیالات پر چلتی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ صدر اب اس جنگ سے تھک چکے ہیں اور اس میں مزید اپنا سیاسی سرمایہ لگانے سے کتراتے ہیں۔
آبنائے ہرمز کا معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ دنیا کا بیس فیصد تیل یہاں سے گزرتا ہے اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے معاشی دباؤ بڑھ رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اتوار کو کہا تھا کہ امریکی افواج سیکڑوں پھنسے ہوئے جہازوں کو بحفاظت نکالیں گی، لیکن جب ایران اور امریکا کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا تو جنرل ڈین کین نے کہا کہ ایرانی حملے اس سطح کے نہیں تھے کہ بڑی جنگ دوبارہ شروع کی جائے۔ مارکو روبیو نے اس حوالے سے کہا کہ آپریشن ایپک فیوری مکمل ہو چکا ہے اور صدر اب ایک معاہدے کو ترجیح دیں گے۔
بدھ کی صبح صدر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ اگر وہ معاہدے پر راضی نہیں ہوتے تو بمباری دوبارہ شروع ہو جائے گی اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس بار یہ پہلے سے کہیں زیادہ شدید ہوگی۔
اسی دوران امریکی فوج نے اطلاع دی کہ انہوں نے ایک ایرانی تیل بردار جہاز پر فائرنگ کر کے اسے ناکارہ بنا دیا ہے جو ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کر رہا تھا۔
دوسری جانب امریکا اپنے اتحادیوں کو بھی اس مشن میں شامل کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن برطانیہ اور فرانس جیسے ممالک نے تاحال اس میں براہ راست فوجی شمولیت سے انکار کیا ہے، حالانکہ فرانس نے اپنا طیارہ بردار بحری جہاز بحیرہ احمر کی جانب روانہ کر دیا ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر کارروائی کی جا سکے۔
علی واعظ کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش کے دوران صدر ٹرمپ کا آئندہ ہفتے دورہ چین ان کے لیے سفارتی طور پر مشکل ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ انہیں اس مسئلے کے حل کے لیے چین سے مدد مانگنی پڑ سکتی ہے۔