
متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں واٹس ایپ پیغام رسانی کا ایک مقبول ترین ذریعہ بن چکا ہے لیکن حال ہی میں حکام نے بینکنگ خدمات، قانونی ذمہ داریوں اور نئے فیچرز کے حوالے سے کئی اہم اپ ڈیٹس جاری کی ہیں جن سے ہر صارف کا باخبر رہنا ضروری ہے۔
متحدہ عرب امارات کے مرکزی بینک نے یکم مئی سے تمام مالیاتی اداروں بشمول بینکوں، ایکسچینج ہاؤسز اور انشورنس کمپنیوں پر واٹس ایپ کے ذریعے کسٹمر سروس فراہم کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔
اس پابندی کا مقصد صارفین کے ڈیٹا کی حفاظت اور دھوکہ دہی کے بڑھتے ہوئے خطرات کو روکنا ہے کیونکہ واٹس ایپ پر بھیجی گئی معلومات ملک سے باہر غیر محفوظ ہیں۔
مرکزی بینک کے مطابق اب صارفین کا ڈیٹا شیئر کرنے، لین دین کی تصدیق یا او ٹی پی بھیجنے کے لیے واٹس ایپ کا استعمال نہیں کیا جائے گا اور بینکوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان خدمات کے لیے اپنی موبائل ایپس یا کال سینٹرز کا استعمال کریں۔
قانونی ماہرین نے رہائشیوں کو خبردار کیا ہے کہ واٹس ایپ پر کی جانے والی نجی گفتگو اور گروپ چیٹس بھی ملک کے سائبر کرائم قوانین کے دائرہ کار میں آتی ہیں۔
کسی کی رضامندی کے بغیر تصاویر شیئر کرنا، غیر تصدیق شدہ مواد آگے بھیجنا یا کسی کی ساکھ کو نقصان پہنچانے والی پوسٹ میں ٹیگ کرنا سنگین جرم ثابت ہو سکتا ہے جس پر ڈھائی لاکھ سے پانچ لاکھ درہم تک جرمانہ یا قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ سائبر کرائم قانون کے آرٹیکل 52 کے تحت کسی پیغام کو آگے فارورڈ کرنا بھی اسے دوبارہ شائع کرنے کے برابر تصور کیا جاتا ہے چاہے صارف نے وہ پیغام خود تیار نہ کیا ہو۔
اسی طرح واٹس ایپ گروپس کے ایڈمنز پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ غیر قانونی مواد کی موجودگی پر فوری کارروائی کریں۔
ماہرین کے مطابق اگر ایڈمنز کو غیر قانونی مواد کا علم ہو جائے اور وہ اسے حذف نہ کریں تو آرٹیکل 53 کے تحت انہیں بھی ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے۔
دبئی کی سب سے بڑی عدالت نے یہ بھی قرار دیا ہے کہ واٹس ایپ پیغامات کو قانونی تنازعات میں بطور ثبوت استعمال کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ ان کی صداقت کی مکمل تصدیق ہو چکی ہو۔
عدالت کے مطابق چونکہ پیغامات میں ترمیم یا ہیر پھیر ممکن ہے، اس لیے اب ان کی فرانزک تصدیق لازمی ہوگی۔
دوسری جانب واٹس ایپ ویب استعمال کرنے والے صارفین کے لیے ایک اچھی خبر یہ ہے کہ اب براؤزر کے ذریعے براہ راست وائس اور ویڈیو کالز کرنے کی سہولت متعارف کرائی جا رہی ہے، تاہم متحدہ عرب امارات میں اس فیچر کی دستیابی ٹیلی کمیونیکیشن اینڈ ڈیجیٹل گورنمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (ٹی ڈی آر اے) کی منظوری سے مشروط ہے۔
صارفین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ واٹس ایپ کا استعمال کرتے وقت اپنے الفاظ کا انتخاب احتیاط سے کریں کیونکہ ان کے بھیجے گئے پیغامات عدالت تک پہنچ سکتے ہیں۔