مائیکرو سافٹ کے نقشوں سے اسرائیلی اصطلاحات ہٹا دی گئیں، فلسطینی نام شامل

مائیکروسافٹ نے اپنے ڈیجیٹل نقشوں میں اہم تبدیلیاں کرتے ہوئے فلسطینی جغرافیائی نام شامل کر دیے ہیں اور مقبوضہ مغربی کنارے کے لیے استعمال ہونے والی کچھ اسرائیلی اصطلاحات کو ہٹا دیا ہے۔ یہ دعویٰ ایک ڈیجیٹل حقوق کی تنظیم نے پیر کے روز جاری کیے گئے بیان میں کیا۔

عرب سینٹر فار دی ایڈوانسمنٹ آف سوشل میڈیا کے مطابق سرچ انجن ’بنگ‘ سمیت مائیکروسافٹ کی سروسز میں اب ان مقامات کو ”یہودیہ اور سامریہ، اسرائیل“ کے بجائے ”ویسٹ بینک“ یعنی مغربی کنارہ لکھا جا رہا ہے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی پہلے استعمال ہونے والی اصطلاحات کے مقابلے میں زیادہ غیر جانبدار اور بین الاقوامی قانون سے ہم آہنگ ہے۔

”یہودیہ اور سامریہ“ وہ اصطلاح ہے جو اسرائیل مقبوضہ مغربی کنارے کے لیے استعمال کرتا ہے، تاہم بین الاقوامی قوانین کے مطابق مغربی کنارہ اور مشرقی یروشلم فلسطینی علاقوں کے طور پر تسلیم کیے جاتے ہیں اور انہیں مستقبل کی ممکنہ فلسطینی ریاست کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔

ڈیجیٹل حقوق کی اِس تنظیم کے مطابق یہ تبدیلی کئی مہینوں کی دستاویزات، رابطوں اور دباؤ کے بعد ممکن ہوئی ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ اصلاح فلسطینی جغرافیے کو درست انداز میں دکھانے کی طرف ایک اہم قدم ہے، کیونکہ غلط لیبلنگ سے زمین پر موجود حقیقت مسخ ہو سکتی ہے اور سیاسی تنازعات مزید بڑھ سکتے ہیں۔

تنظیم نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی کہا ہے کہ یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مقبوضہ مغربی کنارے میں صورتِ حال پہلے ہی کشیدہ ہے۔ ان کے مطابق وہاں اسرائیلی بستیوں کی توسیع، آبادکاروں کے تشدد اور فلسطینیوں کی بے دخلی کے واقعات جاری ہیں، جسے بعض مبصرین انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے جوڑتے ہیں۔

عرب سینٹر فار دی ایڈوانسمنٹ آف سوشل میڈیا کی ایڈووکیسی مینیجر لاما نازیح نے اس تبدیلی کو ایک ”ضروری اصلاح“ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کو چاہیے کہ وہ بین الاقوامی قوانین کا احترام کریں اور نقشوں کے ذریعے کسی بھی فریق کی جغرافیائی شناخت کو غیر واضح نہ کریں۔

ایک آنادولو کی جانب سے بنگ میپ پر کی گئی تلاش میں بھی یہ بات سامنے آئی کہ مائیکروسافٹ نے مغربی کنارے کے لیے یہی نام استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ تاہم کمپنی کی جانب سے ان تبدیلیوں کے حوالے سے فوری طور پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔

یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر اس بات پر بحث جاری ہے کہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں تنازعات والے علاقوں میں جغرافیائی معلومات اور نقشوں کی نمائندگی کیسے کرتی ہیں۔

گزشتہ برسوں میں مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں اسرائیلی کارروائیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ان کارروائیوں میں لوگوں کی گرفتاری، ہلاکتیں، املاک کی تباہی اور فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کرنا شامل ہے۔ ساتھ ہی وہاں اسرائیلی بستیوں کی توسیع بھی جاری ہے۔

فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ اگر یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو اسرائیل ممکنہ طور پر مغربی کنارے کو اپنے ملک میں شامل کرنے کی کوشش کر سکتا ہے، جس سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات کم ہو سکتے ہیں۔

بین الاقوامی سطح پر بھی اس مسئلے پر توجہ بڑھ رہی ہے۔ جولائی 2024 میں بین الاقوامی عدالت انصاف نے ایک اہم رائے دیتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل کا فلسطینی علاقوں پر قبضہ غیر قانونی ہے اور مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں جو اسرائیلی بستیاں قائم کی گئی ہیں، انہیں ختم کر کے وہاں سے انخلا کیا جائے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles