امریکا، چین اور روس کے جدید ترین پانچویں نسل کے لڑاکا طیارے

دنیا بھر میں فضائی برتری حاصل کرنے کی دوڑ تیزی سے ایک بڑے مقابلے کی شکل اختیار کر چکی ہے، جہاں امریکا، چین اور روس سمیت دیگر عالمی طاقتیں پانچویں نسل کے ایسے جدید ترین لڑاکا طیاروں پر اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہی ہیں جو اسٹیلتھ ٹیکنالوجی، جدید سینسرز اور نیٹ ورک پر مبنی جنگی نظام سے لیس ہیں۔

جدید لڑاکا طیارے جیسے جے 20، ایف 22، ایف 35 اور اور ایس یو 57 اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ اب صرف رفتار یا مینوئل طاقت کافی نہیں رہی۔ جدید دفاعی حکمتِ عملی میں اب وہی طیارہ فاتح ہے جو دشمن کو پہلے تلاش کرنے، نشانہ بنانے اور بحری و زمینی افواج کے ساتھ لمحوں میں معلومات کا تبادلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

امریکا: ایف-35 اور ایف-22 کی حکمرانی

امریکا کا ”ایف 35 لائٹننگ II“ اس وقت دنیا کا سب سے جدید نیٹ ورکنگ سسٹم مانا جاتا ہے۔ یہ نہ صرف ایک لڑاکا طیارہ ہے بلکہ میدانِ جنگ میں ایک ”کمانڈ سینٹر“ کا کردار ادا کرتا ہے۔ اس کے مقابلے میں ”ایف 22 ریپٹر“ اپنی بے پناہ رفتار اور ریڈار سے اوجھل رہنے کی صلاحیت کے باعث اب بھی فضائی برتری کا بے تاج بادشاہ تصور کیا جاتا ہے، حالانکہ اس کی محدود تعداد امریکا کے لیے ایک چیلنج ہے۔

 (ایف - 22)
(ایف – 22)

اس کے ساتھ ہی امریکا جہاں ایک طرف ”ایف 35“ جیسے جدید طیارے تعینات کر رہا ہے، وہیں وہ ”ایف 16“ جیسے آزمودہ طیاروں کو بھی ان کے ساتھ ملا کر استعمال کر رہا ہے تاکہ فضائی دفاع کو مزید ناقابلِ تسخیر بنایا جا سکے۔ حالیہ مشقوں میں ان دونوں طیاروں کے مشترکہ آپریشنز نے ثابت کیا ہے کہ پرانی اور نئی ٹیکنالوجی کا ملاپ ہی موجودہ دور کی ضرورت ہے۔

چین اور روس: بڑھتی ہوئی دفاعی صلاحیتیں

چین نے اپنے ”جے 20 مائٹی ڈریگن“ کے ذریعے عالمی سطح پر اپنی فضائی طاقت کا لوہا منوایا ہے۔ یہ طیارہ بنیادی طور پر طویل فاصلے تک مار کرنے اور دشمن کے اہم معاون اثاثوں، مثلاً ریڈار اور ایندھن فراہم کرنے والے جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، چین اپنے بحری بیڑوں کی قوت بڑھانے کے لیے ”جے 35“ کی تیاری پر بھی بھرپور کام کر رہا ہے۔

دوسری جانب، روس کا ”ایس یو 57-فیلکن“ اسٹیلتھ ٹیکنالوجی اور فضا میں غیر معمولی تیزی و چستی کا ایک شاہکار مجموعہ ہے۔ اگرچہ اس طیارے کی پیداوار کی رفتار فی الحال سست ہے، لیکن یہ روس کو کسی بھی پیچیدہ جنگی ماحول میں اہم برتری فراہم کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔

 (روس کا ’ایس یو 57-فیلکن‘)
(روس کا ’ایس یو 57-فیلکن‘)

ابھرتی ہوئی طاقتیں: ترکیہ اور جنوبی کوریا

ترکیہ کا فائٹر پروگرام ”کان“ دفاعی خود انحصاری کی جانب ایک بہت بڑا قدم ہے، جبکہ جنوبی کوریا کا ”کے ایف 21“ ایک کم لاگت مگر جدید متبادل کے طور پر عالمی سطح پر سامنے آ رہا ہے۔ یہ ممالک اس حقیقت کو ثابت کر رہے ہیں کہ اب جدید ترین فضائی ٹیکنالوجی صرف چند بڑی طاقتوں تک ہی محدود نہیں رہی۔

 (ترکیہ کا فائٹر پروگرام ”کان“)
(ترکیہ کا فائٹر پروگرام ”کان“)

دفاعی ماہرین کے مطابق مستقبل کی جنگ صرف کسی ایک طیارے کی کارکردگی تک محدود نہیں ہوگی۔ اب تمام تر توجہ ’این جی ڈی اے‘ (نیکسٹ جنریشن ایئر ڈومیننس) جیسے پروگراموں پر مرکوز ہے جہاں انسان بردار طیارے، اے آئی اور ڈرونز مل کر ایک مربوط نیٹ ورک کے طور پر جنگ لڑیں گے۔

 (جنوبی کوریا کا ’کے ایف 21)
(جنوبی کوریا کا ’کے ایف 21)

اسی طرح یورپ میں بھی مستقبل کے دو بڑے منصوبوں پر کام ہو رہا ہے۔ برطانیہ، اٹلی اور جاپان مل کر ”ٹیمپسیٹ“ نامی نظام تیار کر رہے ہیں، جبکہ فرانس، جرمنی اور اسپین ایک مشترکہ پروگرام ’ایف سی اے ایس‘ پر توجہ دے رہے ہیں۔ ان دونوں منصوبوں کا مقصد جدید ترین طیاروں کو مصنوعی ذہانت اور ڈرونز کے ساتھ جوڑ کر ایک ناقابلِ شکست فضائی نیٹ ورک بنانا ہے۔

اب آنے والے وقت میں فضائی برتری اسی ملک کے پاس ہوگی جو اسٹیلتھ ٹیکنالوجی، جدید سینسرز اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کو ایک لڑی میں پرونے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ اب جیت کا فیصلہ محض روایتی طاقت سے زیادہ پائلٹ کے ”فوری فیصلے“ اور تمام دفاعی نظاموں کے درمیان ”مضبوط رابطے“ پر ہوگا۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles