امریکا نے ایران سے دور تین بڑے ایرانی بحری جہاز روک لیے

امریکی فوج نے تین تیل بردار ایرانی بحری جہازوں کو ایران سے دور روک کر ان کا رخ تبدیل کر دیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق شپنگ اور سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ یہ کارروائی بھارت، ملائیشیا اور سری لنکا کے قریب سمندری حدود میں کی گئی ہے۔

واشنگٹن نے ایران کی سمندری تجارت پر پہلے ہی ناکہ بندی نافذ کر رکھی ہے، جبکہ دوسری جانب ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو روکنے کے لیے کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔

امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ کو دو ماہ بیت چکے ہیں اور موجودہ غیر یقینی جنگ بندی کے دوران امن مذاکرات کی بحالی کے آثار تاحال کم نظر آ رہے ہیں۔

آبنائے ہرمز کی بندش سے دنیا بھر میں تیل اور گیس کی سپلائی کا پانچواں حصہ متاثر ہوا ہے جس سے توانائی کا عالمی بحران پیدا ہو گیا ہے۔

حالیہ دنوں میں امریکی افواج نے ایران کے ایک مال بردار جہاز اور ایک آئل ٹینکر کو اپنی تحویل میں لیا ہے۔

جس کے جواب میں ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بدھ کے روز خلیج سے باہر جانے والے دو کنٹینر جہازوں پر فائرنگ کے بعد انہیں پکڑ لیا ہے۔ یہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایران کی جانب سے جہاز قبضے میں لینے کا پہلا واقعہ ہے۔

رائٹرز کے مطابق امریکی اور بھارتی شپنگ ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ حالیہ دنوں میں امریکا نے ایران کے تین مزید ٹینکرز کا رخ موڑا ہے۔

ان جہازوں میں ’ڈیپ سی‘ نامی ایک بڑا ٹینکر شامل ہے جو خام تیل سے لدا ہوا تھا اور اسے آخری بار ایک ہفتہ قبل ملائیشیا کے ساحل کے قریب دیکھا گیا تھا۔

اس کے علاوہ ’سیوین‘ نامی چھوٹے جہاز کو بھی روکا گیا ہے جو اپنی گنجائش کا 65 فیصد تیل لے کر جا رہا تھا۔

تیسرا بڑا ٹینکر ’ڈورینا‘ ہے جس میں 20 لاکھ بیرل خام تیل موجود تھا اور اسے تین روز قبل جنوبی بھارت کے ساحل کے قریب دیکھا گیا تھا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ ڈورینا ٹینکر ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرنے کی کوشش کر رہا تھا، جس کے بعد اب وہ بحر ہند میں امریکی بحریہ کے ایک جنگی جہاز کی نگرانی میں ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکی فوج نے ’دریا‘ نامی ایک اور ٹینکر کو بھی روکا ہے جو بھارت میں اپنا سامان اتارنے میں ناکام رہا تھا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق جب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی شروع ہوئی ہے، امریکی افواج نے اب تک مجموعی طور پر 31 بحری جہازوں کو واپس مڑنے یا بندرگاہوں پر لوٹنے کا حکم دیا ہے۔

سمندری سیکیورٹی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی فوج جان بوجھ کر ایرانی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے دور کھلے پانیوں میں نشانہ بنا رہی ہے تاکہ آپریشن کے دوران سمندر میں بچھی بارودی سرنگوں کے خطرے سے بچا جا سکے۔

اگرچہ امریکی فوج نے تمام پکڑے گئے جہازوں کی فہرست جاری نہیں کی، لیکن ایشیائی پانیوں میں ہونے والی یہ کارروائیاں سمندری تجارت کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles