امریکا-ایران مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں جے ڈی وینس شریک نہیں ہوں گے: امریکی ٹی وی


امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے ممکنہ دوسرے مرحلے کے لیے اسلام آباد میں تیاریاں تیز ہوگئی ہیں، تاہم پاکستانی حکام یا ایران کی جانب سے اس حوالے سے کوئی حتمی اعلان سامنے نہیں آیا ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے اے بی سی نیوز نے دعویٰ کیا ہے کہ اسلام آباد میں ایران کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور میں امریکی وفد کی قیادت جے ڈی وینس نہیں کریں گے۔
اے بی سی نیوز سے وابستہ صحافی جوناتھن کارل نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’ایکس‘ اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیر کے حوالے سے بتایا کہ اسلام آباد مذاکرات کے دوسرے مرحلے کے لیے جے ڈی وینس کو امریکی وفد کی قیادت کی سربراہی سونپی گئی ہے۔
تاہم کچھ دیر بعد ایک اور پوسٹ میں انہوں نے انکشاف کیا کہ صدر ٹرمپ نے ٹیلی فونک گفتگو میں انہیں بتایا ہے کہ جے ڈی وینس اسلام آباد نہیں جارہے ہیں۔ امریکی صحافی کے مطابق صدر ٹرمپ نے بتایا کہ سیکرٹ سروس کے لیے 24 گھنٹوں کے مختصر نوٹس پر سیکیورٹی انتظامات کرنا ممکن نہیں ہے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کچھ دیر قبل سوشل میڈیا پر بیان میں اعلان کیا تھا کہ ایران سے مذاکرات کے لیے امریکی وفد کل شام اسلام آباد پہنچے گا۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے ہفتے کی شب قوم سے خطاب میں کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی میں پھر اضافے کا امکان ہے تاہم مذاکرات کا عمل جاری ہے اور ایران ہر ضروری اقدام کے لیے تیار ہے۔
باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ پاکستان سمیت مختلف ممالک کے ذریعے ایران تک تجاویز پہنچائی گئی ہیں جن کا سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے تفصیلی جائزہ لیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران پائیدار امن کا خواہاں ہے لیکن امریکا پر عدم اعتماد برقرار ہے۔ انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ ایران ایسا مستقل حل چاہتا ہے جو جنگ بندی کے بعد دوبارہ تصادم کے خطرات کو ختم کر سکے۔
الجزیرہ نے اپنی ایک رپورٹ میں پاکستانی حکام کے حوالے سے بتایا کہ ان کے اندازے کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات آئندہ چند روز میں متوقع ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ نتیجہ مختلف زمینی حقائق اور حالیہ سرگرمیوں کی بنیاد پر اخذ کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ امریکی فضائیہ کے دو کارگو طیارے راولپنڈی کے نور خان ایئربیس پر لینڈ کر چکے ہیں جب کہ ایئرپورٹ سے ریڈ زون تک جانے والی سڑکوں کو بھی عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔
اتوار کے روز اسلام آباد اور اطراف میں سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔ اسلام آباد کے اہم ہوٹلوں کو بھی خالی کرایا جا رہا ہے اور جمعہ تک بکنگ بند کردی گئی ہے۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق شہر میں سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے وفاقی دارالحکومت اور اطراف میں ہیوی ٹرانسپورٹ اور پبلک بسوں کی آمدورفت محدود کردی گئی ہے، جب کہ راولپنڈی اور اسلام آباد میں پبلک ٹرانسپورٹ اور بھاری ٹریفک پر تاحکمِ ثانی پابندی عائد کردی گئی ہے۔
راولپنڈی اور اسلام آباد میں میٹرو بس سروس کو بھی پمز اسٹیشن سے پاک سیکرٹریٹ تک مکمل طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ 11 اپریل کو امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور اسلام آباد کے سیرینا ہوٹل میں ہوا تھا، جس کے بعد اب ان غیر معمولی سیکیورٹی انتظامات کو ممکنہ دوسرے دور کی تیاریاں قرار دیا جارہا ہے۔

ذرائع کے مطابق مذاکرات کے ممکنہ دوسرے دور کے لیے شہر میں تقریباً 20 ہزار اہلکار تعینات کیے جائیں گے، جن میں پنجاب پولیس، رینجرز، اسلام آباد پولیس اور پاک فوج کے دستے شامل ہوں گے۔
ریڈ زون میں غیر متعلقہ افراد کے داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، جب کہ اہم شاہراہوں کے اطراف پرچم آویزاں کیے جا رہے ہیں اور گرین بیلٹس کو بھی رنگ برنگے پھولوں سے سجایا جا رہا ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles