لبنان جنگ بندی: جنوبی علاقوں میں لوگوں کی گھر واپسی شروع، حکام کی احتیاط کی اپیل

لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے نفاذ کے باوجود جنوبی لبنان کے علاقوں میں صیہونی افواج کی موجودگی اور پیش قدمی کے باعث شہریوں کی واپسی میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ اسرائیلی حکام نے شہریوں کو کچھ علاقوں میں جانے سے منع کیا ہے جب کہ چند مقامات پر فائرنگ اور بارودی مواد پھٹنے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔

لبنان اور اسرائیل کے درمیان جمعرات کو 10 روزہ جنگ بندی کا باقاعدہ اطلاق ہو گیا ہے۔ جنگ بندی شروع ہوتے ہی بڑی تعداد میں شہریوں نے جنوبی لبنان اور بیروت میں واقع اپنے گھروں کا رخ کرنا شروع کر دیا ہے۔

لبنانی میڈیا کے مطابق جنگ بندی شروع ہونے سے چند گھنٹے قبل اسرائیل نے جنوبی لبنان میں بمباری تیز کر دی تھی۔ صیدا ڈسٹرکٹ میں غازیہ اور دیگر رہائشی علاقوں پر اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 14 افراد شہید اور درجنوں زخمی ہوئے۔

جنگ بندی کے اطلاق کے بعد بھی بظاہر مکمل امن قائم نہیں ہو سکا ہے اور کچھ خلاف ورزیاں رپورٹ کی گئی ہیں۔ لبنانی نیشنل نیوز ایجنسی کے مطابق مجدل سلم کے علاقے میں اسرائیلی افواج کی جانب سے چھوڑے گئے بارودی مواد کے دھماکے میں ایک لڑکا جاں بحق اور ایک زخمی ہو گیا۔

کونین میں اسرائیلی دستوں نے اسلامک ہیلتھ اتھارٹی کی ایک ایمبولینس ٹیم پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں کچھ افراد زخمی ہوئے۔ خیام میں بھی اسرائیلی فوج کی جانب سے جمعہ کے روز بڑے پیمانے پر عمارتوں کو مسمار کر دیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج کی ان علاقوں میں موجودگی سے شہری آبادی کو خطرات لاحق ہیں۔ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے باوجود جنوبی لبنان کے علاقوں کی طرف جانے والی سڑکوں پر ٹریفک کا شدید رش ہے۔

لبنانی فوج نے ٹریفک کی روانی کے لیے اسرائیلی حملوں میں تباہ ہونے والے ’قاسمیہ پُل‘ کو کھول دیا ہے۔ تاہم لبنانی فوج اور عسکری حکام نے سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے عوام کو خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی افواج اب بھی دریائے لیتانی کے جنوب میں کئی علاقوں میں موجود ہیں اور پیش قدمی کررہی ہیں۔

لبنانی حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ خطرناک علاقوں اور خاص طور پر رات کے وقت سفر کرنے سے گریز کریں۔

لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے بھی ایک بیان میں شہریوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ بندی کے بعد لوگوں کی گھروں کو واپسی کی تڑپ قابلِ فہم ہے، لیکن وہ اپنی جانوں کی سلامتی کے پیشِ نظر صورتِ حال مکمل واضح ہونے تک صبر سے کام لیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو لبنان اور اسرائیل کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے لبنانی صدر جوزف عون اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ ہونے والی بات چیت کو بہترین قرار دیا۔

صدر ٹرمپ نے اپنی نائب صدر جے ڈی وینس، وزیرِ خارجہ مارکو روبیو اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف ڈین کین پر مشتمل ٹیم کو مستقل امن کے قیام کا ٹاسک سونپا ہے۔

اپنے پیغام میں صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ نیتن یاہو اور صدر جوزف عون کو وائٹ ہاؤس مدعو کریں گے تاکہ 1983 کے بعد اسرائیل اور لبنان کے درمیان پہلی بار آمنے سامنے بات چیت کا آغاز کیا جا سکے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ دونوں فریقین امن چاہتے ہیں اور یہ ہدف جلد حاصل کر لیا جائے گا۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles