
لبنان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو سختی سے مسترد کیا ہے کہ لبنانی صدر جوزف عون اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے درمیان جلد ہی کوئی براہِ راست بات چیت ہونے والی ہے۔ لبنانی حکام نے امریکی انتظامیہ پر واضح کر دیا ہے کہ کسی بھی قسم کے براہِ راست مذاکرات سے قبل اسرائیل کو جنگ بندی پر عمل کرنا ہوگا۔
خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ نے تین لبنانی عہدیداروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ صدر جوزف عون کا نیتن یاہو سے براہِ راست بات چیت کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
لبنانی حکام کے مطابق امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو اور لبنانی صدر کے درمیان ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو سے قبل ہی لبنانی سفارت خانے نے واشنگٹن کو اپنے اس مؤقف سے آگاہ کر دیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ ان کی کوششوں سے 34 سال بعد اسرائیل اور لبنان کے درمیان رابطہ بحال ہوجائے گا۔
لبنان کے صدر جوزف عون نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے لیے جنگ بندی پر عمل درآمد لازمی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ بندی یقینی بنانے کے لیے پہلا قدم اسرائیلی فوج کا انخلاء ہوگا، جس کے بعد لبنانی فوج کو جنوبی علاقوں میں تعینات کیا جا سکے گا۔
اسرائیلی سیکیورٹی کابینہ کی رکن گِلا گاملیل نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ کئی دہائیوں کے بعد پہلی بار اسرائیلی وزیرِاعظم لبنانی صدر سے بات کریں گے، تاہم لبنانی حکام نے ان دعوؤں کی تردید کر دی ہے۔