ترکیہ میں طالب علم کی اسکول میں فائرنگ سے ساتھی طلبا سمیت 9 افراد ہلاک

ترکیہ کے وسطی علاقے میں واقع ایک مڈل اسکول میں طالب علم نے فائرنگ کرکے ساتھی طلبا سمیت 9 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا جب کہ 13 افراد زخمی ہو گئے۔ حکام کے مطابق حملہ آور ایٹ گریڈ کا طالب علم تھا، جس نے اپنے والد کا اسلحہ بیگ میں چھپا کر اسکول میں داخل ہو کر دو کلاس رومز میں فائرنگ کی۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بدھ کے روز فائرنگ کا افسوسناک واقعہ ترک صوبے قہرمان مرعش میں واقع آیسیر چلیک مڈل اسکول میں پیش آیا، جہاں آٹھویں جماعت کے طالب علم نے فائرنگ کرکے ساتھی طلبا اور عملے کو نشانہ بنایا۔ ابتدائی طور پر 4 ہلاکتوں کی اطلاع دی گئی تھی تاہم بعد میں حکام نے تصدیق کی کہ ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 9 ہو گئی ہے۔

حکام کے مطابق حملہ آور اسکول میں اپنے بیگ میں 5 بندوقیں اور 7 میگزین لے کر داخل ہوا، جو مبینہ طور پر اس کے والد کی ملکیت تھیں۔ فائرنگ کے دوران اس نے 2 کلاسوں میں گھس کر طلبہ پر اندھا دھند گولیاں چلائیں، جس کے نتیجے میں متعدد افراد موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے۔

حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آور نے فائرنگ کے دوران افراتفری میں خود کو بھی گولی مار کر ہلاک کر لیا۔

رپورٹس کے مطابق مرنے والوں میں ساتھی طلبہ سمیت دیگر افراد شامل ہیں جب کہ زخمیوں کی تعداد 13 سے زائد بتائی گئی ہے۔ زخمیوں میں 3 افراد کی حالت تشویشناک ہے، جنہیں اسپتال میں انتہائی نگہداشت میں رکھا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آور سابق پولیس اہلکار کے بیٹے کے طور پر شناخت ہوا ہے جب کہ اس کے والد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے اسکول کو گھیرے میں لے کر علاقے کو سیل کر دیا۔

ترکیہ کے اسکولوں میں فائرنگ کے واقعات شاذ و نادر ہی پیش آتے ہیں تاہم اس واقعے نے ملک بھر میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ غیر مصدقہ ویڈیوز میں طلبہ کو فائرنگ کے دوران عمارت کی دوسری منزل کی کھڑکیوں سے کودتے ہوئے دیکھا گیا، جبکہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں مبینہ حملہ آور کو راہ چلتے طلبہ پر فائرنگ کرتے دکھایا گیا ہے۔

واقعے کے بعد پولیس اور امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں جب کہ عدالت نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، جس کی تصدیق ترکیہ کے وزیرِ انصاف سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کی۔ انہوں نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے ایک روز قبل بھی جنوبی شہر شانلی اورفا میں ایک سابق طالب علم نے اسکول میں فائرنگ کر کے 16 افراد کو زخمی کیا تھا اور بعد ازاں خودکشی کر لی تھی۔ اسی پس منظر میں تازہ واقعے نے سیکیورٹی خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles