سات جزیروں پر مشتمل آبنائے ہرمز کی چابی، سمندری گزرگاہ کھولنے کا نیا منصوبہ

مشرقِ وسطیٰ میں امریکی افواج کی متوقع تعیناتی کے تناظر میں آبنائے ہرمز کے قریب واقع ایران کے سات اہم جزائر عالمی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں، جو بحری گزرگاہ پر کنٹرول میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔

سی این این کی رپورٹ کے مطابق ابو موسیٰ، گریٹر تنب، لیسر تنب، ہنگام، قشم، لارک اور ہرمز پر مشتمل یہ جزائر ایران کے دفاعی نظام کا حصہ ہیں، جو آبنائے ہرمز میں داخل اور خارج ہونے والے بحری جہازوں کی نگرانی اور کنٹرول کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

خاص طور پر ابو موسیٰ، گریٹر تنب اور لیسر تنب اپنی جغرافیائی اہمیت کے باعث بڑے جنگی جہازوں اور آئل ٹینکروں کو محدود راستوں سے گزرنے پر مجبور کرتے ہیں، جس سے وہ ایرانی حملوں کے لیے آسان ہدف بن سکتے ہیں۔

ایرانی حکام ان جزائر کو ناقابلِ غرق طیارہ بردار جہاز قرار دیتے ہیں، جبکہ پاسدارانِ انقلاب نے حالیہ عرصے میں ان پر اپنی عسکری موجودگی مزید مضبوط بنانے کا اعلان کیا تھا۔

دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ امریکا کے تقریباً 4 ہزار میرینز اور 82ویں ایئربورن ڈویژن کے قریب 1000 اہلکار خطے کی جانب روانہ ہوئے ہیں۔

۔

عسکری ماہرین کے مطابق ان جزائر پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے بحری یا فضائی حملے کیے جا سکتے ہیں، تاہم ایرانی دفاعی نظام، میزائلز اور ڈرونز اس کارروائی کو پیچیدہ بنا سکتے ہیں، خاص طور پر جزیرہ لارک کو اہم رکاوٹ قرار دیا جا رہا ہے۔

ممکنہ آپریشن دو دن سے دو ہفتوں تک جاری رہ سکتا ہے، جبکہ جزائر پر کنٹرول کے بعد تقریباً 2000 فوجیوں کی مستقل تعیناتی درکار ہوگی۔

تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ ایرانی سرزمین سے میزائل اور ڈرون حملوں کے خطرات امریکی افواج کو طویل اور مہنگی جنگ میں الجھا سکتے ہیں۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے توانائی ڈھانچے پر ممکنہ حملوں کی ڈیڈ لائن 6 اپریل تک بڑھا دی ہے، جبکہ وزیر خارجہ مارکو روبیو کے مطابق مذاکرات میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے، تاہم فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ ان جزائر پر قبضہ تزویراتی فائدہ دے سکتا ہے، لیکن اس کے سیاسی نتائج بھی پیچیدہ ہو سکتے ہیں، خاص طور پر متحدہ عرب امارات کے ساتھ ملکیت کے تنازع کے باعث، جو اس معاملے کو بین الاقوامی عدالت میں لے جانے کا عندیہ دے چکا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید جنگی حکمت عملی میں کوئی بھی فیصلہ مکمل طور پر فائدہ مند نہیں ہوتا بلکہ ہر آپشن خطرات، اخراجات اور غیر متوقع نتائج کے توازن پر مبنی ہوتا ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles