
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بحیرہ احمر کے ذریعے تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں جمعہ کو نمایاں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیجی خطے میں صورتحال مزید خراب ہونے کی صورت میں عالمی سطح پر تیل کی فراہمی اور قیمتوں پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔
رائٹرز کے مطابق عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 70 سینٹ اضافے کے بعد 84.93 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 81 سینٹ مہنگا ہو کر 79.76 ڈالر فی بیرل پر فروخت ہوا۔ اس اضافے کے ساتھ دونوں اہم عالمی معیار کے خام تیل کی قیمتوں میں رواں ہفتے تقریباً 12 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ برینٹ خام تیل مسلسل تیسرے ہفتے جبکہ ڈبلیو ٹی آئی دوسرے ہفتے بھی اضافے کی جانب بڑھ رہا ہے۔
مارکیٹ تجزیہ کار ٹم واٹرر کا کہنا ہے کہ اگر بحیرہ احمر بھی تیل کی فراہمی میں رکاوٹ کا ایک بڑا مرکز بن جاتا ہے تو عالمی تیل کی مارکیٹ مزید غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق خلیج اور بحیرہ احمر، دونوں علاقوں میں خطرات موجود ہونے کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں جغرافیائی سیاسی خدشات کا اثر واضح طور پر نظر آ رہا ہے۔
رائٹرز کے مطابق گزشتہ ماہ ایک مفاہمتی معاہدے کے تحت لڑائی میں عارضی وقفہ آیا تھا، تاہم اب امریکا نے ایک بار پھر ایران کے خلاف فضائی حملوں میں شدت پیدا کر دی ہے۔
امریکی افواج نے بدھ کو ایک ہی دن میں ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں کے قریب دو بڑے حملے کیے، جبکہ جمعرات کو بھی کارروائیاں جاری رہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ ایران کی فوجی صلاحیتوں کو کمزور کرنے کے لیے مسلسل چھٹی رات بھی فضائی حملے کیے گئے۔
دوسری جانب ایران نے بھی جوابی کارروائیاں کرتے ہوئے خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اردن میں واقع ایک امریکی فضائی اڈہ بھی ان حملوں کی زد میں آیا۔
ادھر قطر کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ اس کی مسلح افواج نے جمعہ کی صبح ایران کی جانب سے داغا گیا ایک میزائل حملہ ناکام بنا دیا۔ قطر کی وزارت داخلہ کے مطابق میزائل کو تباہ کرنے کی کارروائی کے دوران اڑنے والے ٹکڑوں سے ایک بچہ زخمی ہوا۔
رائٹرز نے تین ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایران نے اپنے حوثی اتحادیوں کو ہدایت دی ہے کہ اگر امریکا ایرانی توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے کرتا ہے تو وہ بحیرہ احمر کے راستے تیل کی ترسیل بند کرنے کے لیے تیار رہیں۔ تاہم اس حوالے سے ایران یا حوثیوں کی جانب سے باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (آئی ای اے) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر فاتح بیرول نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر تیل کی محفوظ فراہمی اب بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ ان کے مطابق اگر آئندہ چند ہفتوں میں حالات بہتر نہ ہوئے تو عالمی توانائی کی منڈی کو سنگین چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ادھر مارکیٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکی خام تیل کی قیمت 70 ڈالر کے درمیانی حصے میں موجود اہم سطح سے نیچے نہیں آتی تو اس میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے اور قیمت 80 ڈالر کے درمیانی حصے تک جا سکتی ہے۔