اسرائیل کا ایرانی بحریہ کے سربراہ علی رضا تنگسیری کو شہید کرنے کا دعویٰ

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب نیوی کے کمانڈر علی رضا تنگسیری کو بندر عباس میں ایک فضائی حملے میں شہید کر دیا گیا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے نیو یارک ٹائمز نے اسرائیلی میڈیا نے ایک عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ علی رضا تنگسیری کو ساحلی شہر بندر عباس میں ایک کارروائی کے دوران ہلاک کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق وہ آبنائے ہرمز کی بندش کے فیصلوں میں مرکزی کردار ادا کر رہے تھے۔

رپورٹ کے مطابق تنگسیری ان چند اہم کمانڈرز میں شامل تھے جو اس سے قبل بھی حملوں میں محفوظ رہے تھے۔ وہ 2018 سے اس عہدے پر فائز تھے اور ایران کی بحری حکمت عملی میں اہم کردار رکھتے تھے۔

)اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ کمانڈر علی رضا آبنائے ہرمز کی بندش کے منصوبے کے مرکزی ذمہ دار سمجھے جاتے تھے تاہم ایران یا اسرائیلی فوج کی جانب سے اس خبر کی باضابطہ تصدیق ابھی تک نہیں کی گئی۔

ادھر آبنائے ہرمز، جو عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے، اس پر ایران کے کنٹرول کے باعث شپنگ سرگرمیاں شدید متاثر ہوئی ہیں۔ اندازوں کے مطابق عالمی سطح پر تیل اور گیس کی تقریباً 20 فیصد ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے، تاہم حالیہ کشیدگی کے باعث اس میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

شپنگ ڈیٹا کے مطابق یکم مارچ سے 25 مارچ کے درمیان جہازوں کی آمدورفت میں تقریباً 95 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ جہاں عام حالات میں روزانہ تقریباً 120 جہاز گزرتے تھے، وہیں اس عرصے میں صرف 155 جہازوں نے یہ راستہ استعمال کیا۔

رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران نے اس اہم گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں پر فیس عائد کرنے کے اقدامات شروع کر دیے ہیں، اور بعض جہازوں سے چینی کرنسی یوآن میں ادائیگی لی جا رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باعث عالمی توانائی منڈی اور تجارتی راستوں پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں، جبکہ صورتحال بدستور غیر یقینی کا شکار ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles