
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا ایران پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے اور ضرورت پڑنے پر زمینی جنگ بھی بھیج سکتا ہے۔ انھوں نے ایران پر بڑے حملے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ ایران پر ہم نے حملہ اتنی شدت سے نہیں کیا، بڑا حملہ تو ابھی آرہا ہے۔
واشنگٹن میں خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایران کو دہشت گرد حکومت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا یہ اقدامات اپنی حفاظت اور عالمی اتحادیوں کے تحفظ کے لیے کر رہا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ ایران نے امریکی و یورپی وارننگز کو نظر انداز کیا اور اس کا ایٹمی پروگرام خطے اور بین الاقوامی برادری کے لیے خطرہ ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے میزائل خوبصورت اور امریکا تک پہنچنے کے قابل تھے اور ایران مشرق وسطیٰ کے لیے بھی ایک خطرہ ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران کے پاس لمبے فاصلے کے میزائل اور جوہری ہتھیار ہوں، تو یہ مشرق وسطیٰ اور امریکا دونوں کے لیے بڑا خطرہ ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسا ہونے پر امریکا خود بھی خطرے میں ہوگا۔
انہوں نے سابق ایرانی جنرل سلیمانی کو روڈ سائیڈ بموں کا باپ قرار دیتے ہوئے یاد دلایا کہ اپنے پہلے دور میں انہوں نے سلیمانی کو ہلاک کیا اور ایران کی میزائل بنانے کی صلاحیتیں محدود کیں۔
امریکی صدر نے ایران پر حملوں کی شدت میں اضافہ کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ہم نے ابھی ان پر حملہ اتنی شدت سے نہیں کیا، بڑا حملہ تو ابھی آنے والا ہے۔ جہاں تک جانا پڑا ہم جائیں گے۔ ضرورت پڑنے پر زمینی فوج بھی بھیجی جا سکتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ موجودہ کارروائیوں میں چار سے پانچ ہفتے لگ سکتے ہیں، لیکن امریکی فوج کے پاس اس سے زیادہ وقت تک جنگ لڑنے کی صلاحیت موجود ہے۔
انہوں نے ایران پر بڑے اور طویل عرصے تک اثر انداز ہونے والے حملوں کا واضح اشارہ دیا۔